بلوچستان حکومت کے تاریخی جرائم میں بی این پی بری الذمہ نہیں، ہمایوں عزیز کرد
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سابق وفاقی وزیر میر ہمایوںعزیز کرد نے بلوچستان نیشنل پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے بلوچستان میں سرکاری جماعت کا حصہ بن کر ریکوڈک کا سودا کیا ،وفاق میں چھ نکات سے انحراف، ساحل وسائل کی جدوجہد سے دستبردار ہوکر سرکاری فنڈز، ترقیاتی منصوبے اور وزارتیں حاصل کیں،سینیٹ الیکشن میں پارٹی کے راز دار ٹولے نے خاتون نشست کا سودا لگایا، بی این پی کی سرپرستی میں صوبے میں قائم حکومت کے تاریخی جرائم میں بی این پی بری الذمہ نہیں ، تعجب ہے پارٹی سربراہ نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے بلوچستان کیلئے بھیک مانگ رہے ، بلوچستان کے قومی حقوق کی سیاست سے دستبراد ہوکر صوبے کے وسائل کا سودا کرنے والوں کیساتھ مزید چلنے کو بلوچستان کے عوام کیساتھ سیاسی خیانت سمجھتاہوں، ہفتے کے روز بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو ارسال کئے گئے اپنے تحریری استعفیٰ میں سابق وفاقی وزیر و بی این پی کے سابق مرکزی کمیٹی کے رکن میر ہمایوں عزیز کرد نے کہا ہے کہ وہ اقتدارچھوڑکرایک ایسے وقت میں بی این پی میںشامل ہوئے جب پارٹی کا سربراہ اور اس کی جماعت سیاسی تنہائی کاشکارتھے ایسے میں اس لئے ان کا ساتھ دیا تاکہ صوبے کیلئے ایک باقاعدہ طاقتورسیاسی آوازکی تشکیل ہوسکے مگر جوں جوں میںنے سیاسی سفرکاآغازکیا پارٹی سربراہ کے ذاتی مقاصد میرے سامنے آناشروع ہوگئے جن میں اولین ترجیح قدوس بزنجوکواقتدارمیں لاناتھا جو ہمارے لیے باعث حیرانگی تھی کہ ایک ایسا شخص اورٹولہ جس کو پارٹی سربراہ اپنی سیاسی زندگی میں مسلسل تنقید کانشانہ بناتے رہے اوراسے اقتدارمیں لیکر آئے اور اس عمل کو دوبارہ بھی دہرایا یہ سب کچھ دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچا کہ پارٹی سربراہ سیاست کواپنی سیاسی عداوت کیلئے استعمال کرتے ہیں کبھی نواب ثناءاللہ زہری توکبھی جام کمال خان یا کسی اور کیخلاف کیوں کہ وہ چاہتے ہیں کہ صوبے میں سیاست ان کے ذات کے گرد گھومتی رہے چاہے بلوچستان کے مسائل حل ہوں یا نہ ہوں۔ اپنے استعفیٰ میں انہوںنے مزید کہا کہ بلوچستان میں بی این پی کی لائی ہوئی حکومت کے سربراہ نے بلوچستان کے مستقبل ریکوڈک کو فروخت کیا اور صوبے پر پارٹی کی مسلط حکومت کے ارکان اسمبلی نے اسمبلی فلور پر یہ کھڑے ہوکر یہ اعلان کیا کہ بلوچستان کے عوام کی آئندہ نسلوں کے وسیلے ریکوڈک کا سودا بلوچستان اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ان جماعتوں کے سربراہان کی باہمی رضا مندی سے کیا گیا ہے ،ایک ایسے صوبے کے لوگ جو نان شبینہ کے محتاج ہیں بی این پی کی مسلط کردہ حکومت کے سربراہ اور بی این پی نے ملکر صوبے کے وسائل کا سودا کیا اور مجرمانہ طور پر خاموش رہے اور بدستور خاموش ہیں۔ یہ خاموشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریکوڈک کی سودے بازی میں بی این پی کے سربراہ اور اس کی جماعت برابر کے شراکت دار ہیں۔ یہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کا سودا کرنے والے موجودہ وزیراعلیٰ کو لانے کے گناہ میں نہ صرف بی این پی کے سربراہ اور ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی شامل ہیں بلکہ آج بھی حکومت وقت کو بی این پی کی سرپرستی حاصل ہے۔


