خودمختار معاشی پالیسیوں کے بغیر ملک کی قسمت بدلنا ممکن نہیں، مولانا لونی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے نائب وبلوچستان کے امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی سکرٹری اطلاعات حاجی سید عبدالستار شاہ چشتی مولوی، عبدالغفار، ملا عطااللہ ملنگ نے دورہ پشین کے دورہ کے دوران کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جب تک سودی نظام کاخاتمہ، اسلامی نظام کا نفاذ نھیں کوئی بھی حکمران مہنگائی کو ختم، معیشت کو بہتر، قوم کو خوشحالی نہیں دے سکتا۔ ہم نے 75 سال تو پی پی، ن لیگ سمیت سول فوجی حکومتیں دیکھیں ہر حکومت امریکہ، برطانیہ کی جاگیردارانہ سیکولر، روٹی، کپڑا، مکان کے نظاموں کو آزمایا، اب تو مولانا فضل الرحمن جس کو وزیراعظم شھباز سمیت سب امیر ماننے کو تیار ھوگئے ہیں، مولانافضل الرحمن صاحب ان اتحادیوں کو قائل کریں کہ ایک سال کیلئے اسلامی نظام کو بھی آزما کر دیکھ لیں تو مسائل حل، مہنگائی کا خاتمہ، قوم کے مطمیئن ہونے کی گارنٹی ہم دینے کو تیار ہیں۔ مہنگائی، قوم کی بدحدحالی کیخلاف لانگ مارچ اور دھرنے کرنیوالے موجودہ حکمران نے بھی ملک و قوم کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے، پچھلی حکومت کو آئی ایم ایف جانے پر موردِ الزام ٹھہرانے والے آج خود آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان گئے، ایک ارب ڈالر قسط منظوری دینے پر توانائی کے محصولات میں اضافے، پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی پر سبسڈی ختم کرنے، مختلف ٹیکسز میں اضافے،اداروں کی نجکاری شرائط کو قبول کیا جارہا ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خوشخبریاں اور بجلی قیمتوں میں اضافہ سے معلوم ہوتاہے کہ موجودہ حکومت میں بھی آزادنہ اور خودمختار معاشی پالیسیوں کی صلاحیت نہیں رہی اور معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرنیکی طرف لیجا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی استحصالی پالیسیوں کی تسلسل سے قوم کی خون نچوڑا گیا، قوم پر مسلسل مہنگائی کا بوجھ لادے جارہے ہیں جس کے باعث غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام پیدا کرنے کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہے جب تک آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کی قرضوں سے نہیں چھڑائیں گے معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا، قرضوں کے مزید بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں دن بدن پستے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت بے یقینی کے کیفیت سے دوچار ہونے کی وجہ سے ملکی سلامتی متاثر ہورہی ہے، یہاں تک کہ ملک کا وزیر خزانہ پر تقرری آئی ایم ایف کی مشاورت سے کی جاتی ہے اور ملک کامرکزی اسٹیٹ بنک بھی کنٹرول میں نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ خودمختار معاشی پالیسیوں کے بغیر ملک کی قسمت بدلنا ممکن نہیں بلند بانگ دعوں سے نہیں عملا خودمختار معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔


