سانحہ 12مئی کے متاثرین 12سال بعد بھی انصاف سے قاصر ہیں، بلوچستان بار
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہاہے کہ سانحہ 12مئی کے متاثرین 12سال بعد بھی انصاف سے قاصر ہے،معصوم شہریوں اور وکلاء کو تشددکانشانہ بنانے والوں کو آج تک سزا نہیں ہوئی جو ایک المیہ ہے۔ان خیالات کااظہاربلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی یشن کے صدر عبدالمجید کاکڑ اور کابینہ نے 12 مئی سانحہ کے حوالے سے بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ 3نومبر 2007ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو معطل کرکے نظر بند کر دیا گیا تھا، بشمول چیف جسٹس عدالت عظمیٰ افتخار محمد چوہدری جس پر وکلا برادری نے ملک گیر ہڑتال شروع کی۔ وکلا نے جنرل پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے غیر آئینی اقدام کیخلاف پاکستان بھر میں تحریک شروع کی جو بعد میں سول سوسائٹی، میڈیا اور سیاستدان بھی اس تحریک کے ہمنوا تھے۔ جس کے نتیجیمیں جنرل پرویز مشرف نے گھٹنے ٹیک کردئیے۔ شاید یہ دنیا کی تاریخ میں عدلیہ کی آزادی کیلئے سب سے لمبی تحریک تھی۔ جو 2007 میں شروع اور 2009 ء تک جاری رہی- لیکن افسوس یہ ہے کہ ہماری عدالتی نظام کی کمزوری اور انصاف کی فراہمی میں تا خیر کا شکار ہے۔12 مئی کے شہدا کے لواحقین ابھی بھی عدالتی انصاف سے قاصر ہے۔ سانحہ کے معصوم شہریوں اور وکلا پر حملے کے دہشت گردوں کو آج تک عدالت عالیہ نے سزا نہیں دی، جو کہ انتہائی افسوس کا علمیہ ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی یشن 12 مئی کے شہدا اور وکلا تحریک کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور عالی’ عدالتی نظام کو مظلوم کے حق کی آواز کا پیغام دیتے ہیں۔


