سابقہ ڈی جی زراعت ریسرچ کیخلاف کارروائی کی جائے، بی این پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ سابقہ ڈی جی محکمہ زراعت ریسرچ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے سابق ڈی جی محکمہ زراعت ریسرچ جوکہ سینیارٹی لسٹ کے مطابق جونیئر ڈائریکٹر ہیں موصوف نے پانچ سینئر پی ایچ ڈیز کو بائی پاس کرکے تین سال ڈی جی زراعت ریسرچ کے پوسٹ پر مسلط رہا انہوں نے ان تین سالوں میں کرپشن لوٹ مار کی انتہا کردی موصوف کی کوئی جائیداد واضح نہیں سوائے سرکاری تنخواہ کے جبکہ موصوف کے دو دو بنگلے مین ایئرپورٹ روڈ پر زیر تعمیر ہیں موصوف 2009سے پلانٹ پروٹیکشن کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ دوسرے ڈائریکٹرز یہ تین سال بعد ٹرانسفرہوجاتے ہیں یہ موصوف 12سال سے ٹرانسفر نہیں ہوئے کرپشن کی انتہا ہے کہ موصوف زیتون کے پروجیکٹ کے انچارج بھی تھے زیتون کے پروجیکٹ کی انکوائری بھی ہورہی ہے لاکھوں زیتون کے پودے باہر ملک سے زمینداروں کے نام پر درآمد ہوتے ہیں یہ افسوس زیتون کے پودے موصوف زمینداروں کو فی پودا150روپے فروخت کرتا رہا موصوف کے اپنے گھر اور بچوں کے استعمال کیلئے سرکاری گاڑیاں استعمال بے دریغ کرتے ہیں حال ہی میں موصوف کے چھوٹے فرزند نے تیز رفتاری کے باعث سرکاری گاڑی کو سریاب پل پر مار دی موصوف نے اپنے بنگلے رینٹ پر دے رکھے ہیں اور خود زراعت کالونی میں دو دو گھر قبضہ کیے ہوئے ہیں جن کا قانونی حق ہے کالونی میں رہائش کا وہ دریہ درس موصوف نے باہر کے اپنے عزیزوں کو غیر قانونی طور پر یہ کالونی میں رہائش دی ہے موصوف میں اپنے عہدے کا غلط اور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے زراعت کالونی میں سرکاری ملازمین،عورتوں بچوں کو رات کے اندھیرے میں دکھے دے کر کالونی سے نکال دیا ان عورتوں کا احتجاج اور ایف آئی آر بھی موجود ہے محکمہ زراعت میں سیکرٹریٹ کرپشن بے قاعدگیاں عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیں محکمہ زراعت سیکرٹریٹ میں ایک ادنی سٹینو گرافر رحمت اللہ جعفر نامی شخص مختلف آرڈرز،نوٹیفکیشن،ٹرانسفرپوسٹنگ اور جعلی بھرتیوں میں ملوث، رحمت اللہ جعفر2013سے محکمہ زراعت سیکرٹریٹ میں لوگوں کو بلیک میل،لین دین جعلی آرڈرز،نوٹیفکیشن یہ سکیشن آفیسر کے دستخط اور اسٹیمپ استعمال کرتا رہا حال ہی میں رحمت اللہ جعفر پر فیک نوٹیفکیشن کی انکوائری بھی CMIT،CS،AGاور اب اینٹی کرپشن میں زیر سماعت ہے ایک اسٹینو گرافر کو سیکشن آفیسر کا چارج کیا محکمہ یا سیکرٹری دے سکتے ہیں جبکہ محکمہ میں متعلقہ آفیسر موجود ہو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ میں کرپشن لوٹ مار، جعلی نوٹیفکیشن آرڈرز پروموشن،بھرتیاں 2013سے2022تک غلط پالیسوں سے ہوئے ہیں حکام بالا سے اپیل کی جاتی ہے کہ ایسے کرپٹ اسٹینو گرافر کے خلاف سخت کارروائی کریں موصوف عدالت احتساب، ایف آئی اے،اینٹی کرپشن، چیف جسٹس بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اسٹینوگرافر کے خلاف فی الفور کارروائی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں