سبی ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال کا آغاز

سبی: سول ہسپتال سبی میں سہولیات اور ادویات کے فقدان کے خلاف سائبان ویلفئیر ٹرسٹ کی جانب سے تین روزہ احتجاجی کیمپ کے بعد تادم مرگ بھوک ہڑتال کا آغاز کر دیا گیا، قیامت خیز گرمی میں تادم مر گ بھوک ہڑتا کا فیصلہ مجبوری اور لوگوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے کیا، ہسپتال میں سانپ اور کتے کے کاٹے کے انجکشن تک دستیاب نہیں تو ہسپتال کا فائدہ ہی کیا، عبید اللہ رند سربراہ سائبان ویلفیئرٹرسٹ تفصیلات کے مطابق کچھ دن قبل کتے کے کاٹنے سے زخمی چند افراد جن میں بچے بھی شامل تھے، انہیں سول ہسپتال سبی لایا گیا، مگر اس ووقت یہ جان کر سب کی حیرت کی انتہا نا رہی کہ ہسپتال میں کتے کے کاٹے کا انجکشن ہی دستیاب نہیں ہے، اس پر سائبان ویلفیئر سوسائٹی کے سربراہ عبیداللہ رند نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور دیگر حکام سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ ضلع سبی میں کہیں بھی کتے کے کاٹے کا انجکشن سرکاری طور پر دستیاب ہی نہیں، اس پر ایک بچی جو شدید زخمی بھی تھی،اسے ساتھ لے کر سائبان ویلفیئر ٹرسٹ نے گورنر ہاؤس سبی کے سامنے ایک تین روزہ احتجاجی کیمپ لگایا گیا تھا، جس کے تین روز پورے ہونے کے بعد آج سے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، اس موقع پر عبیداللہ رند اور ان کے ساتھی حسن ناصر عثمانی کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب سبی کے عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے کر رہے ہیں اور ان کا کسی بھی شخص سے کوئی ذاتی اختلاف ہے نا عناد، انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں ہمارے لوگ ایک گولی اور ایک شربت کی بوتل کے لیے سارا دن ہسپتال میں دھکے کھانے کے بعد مایوس لوٹ جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ کتے اور سانپ کے کاٹے کا علاج ایک ایمرجنسی ضرورت ہے مگر ضلع سبی میں اس کے لیے بھی ضروری انجکشن دستیاب ہی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ تین دن سے احتجاجی کیمپ لگا ہوا ہے مگر صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے کوئی ایکشن نہیں لیا ہے، اور نا ہی سبی ہسپتال میں انٹی ریبیز اور انٹی اسنیک انجکشن مہیا کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی اس مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے سبی کی اس قیامت خیز گرمی میں تادم مرگ بھوک ہڑتال جیسے انتہائی اقدام کی طرف جانا پڑا،انہوں نے کہا کہ جب تک سبی کے عوام کے لیے کتے اور سانپ کے کاٹے کے انجکشن اور دیگر ضروری سامان مہیا نہیں کیا جاتا، تا دم مرگ بھوک ہڑتال جاری رہے گی چاہے اس کے لیے ہماری جان ہی کیو ں نا چلی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں