خواتین کی طلبی حراستی مراکز میں طلبی غیراخلاقی ہے، حماس رہنما
غرب اردن (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے رہنمامصطفی ابو عرہ نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں سیاسی بنیادوں پر شہریوں کی گرفتاریاں اور خواتین کی حراستی مراکز میں طلبی اخلاقی اقدار کے منافی اقدام ہے، فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سکیورٹی ادارے خواتین بالخصوص شہدا کی ماؤں کو طلب کرکے انسانی اور اخلاق اقدار کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ انہوں نے عباس ملیشیا کی طرف سے خواتین کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔رہنما ابو عرہ نے بیان میں کہا کہ سیاسی گرفتاریوں کا طریقہ قوم کی صفوں میں انتشار پھیلانے، فلسطینی عوام دراڑ میں اضافہ اور سماجی تانے بانے کو بکھیرنے کا باعث بنے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ نقطہ نظر قابض ریاست کے ساتھ مرکزی تنازع سے کمپاس کو ہٹانے اور اسے اندرونی تنازعہ میں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ابو عرہ نے کہا کہ ہمارے عوام میں سے عقلمند، آزاد اور معزز رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ معاملات کو ان کے مناسب تناظر میں واپس لائیں اور لوگوں کو فلسطینی سکیورٹی سروسز کے ساتھ تنازعات اور تصادم کی طرف نہ گھسیٹیں جو کہ لوگوں کی حفاظت ان کی سلامتی کی ذمہ داری ہے۔ اس کا کام فلسطینی قوم کو ستانا تکلیف دینا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے فلسطینی عوام جنہوں نے قابض ریاست کے خلاف بغاوت کی ہے۔ وہ فلسطینی اتھارٹی کے خلاف بھی علم بغاوت بلند کرسکتے ہیں۔


