سری لنکا میں تیل ختم ڈاکٹرز بینکرز بھی عوامی احتجاج میں شامل
کولمبو :بجلی کی لوڈشیڈنگ، خوراک اور ادویات کی قلت جیسی سنگین پریشانیوں سے نبردآزما سری لنکا میں پٹرول ختم ہو گیا، حکومت نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی۔ پٹرول بحران کے شدت اختیار کرتے ہی عوام ایک بار پھر سڑکوں پر آ گئے،مظاہرین نے حکومت سے ایندھن کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا پٹرول دو یا عہدہ چھوڑ دو۔ احتجاج میں ڈاکٹرز، بینکرز سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔سری لنکن حکومت کا کہنا ہے کہ پٹرول کی تازہ کھیپ 22 جولائی کو پہنچے گی جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی ایک کھیپ 13 جولائی کو پہنچنے کا امکان ہے۔سری لنکن حکومت نے اگلے دو ہفتوں کے دوران بسوں، ٹرینوں اور ایسی گاڑیوں کو ہی کو ایندھن بھرانے کی اجازت دی ہے جو میڈیکل سروسز یا خوراک کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، سری لنکا میں ایندھن کے ذخائر کم ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں اور ملک میں صرف ایک دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن موجود ہے۔آئی ایم ایف نے مالی بحران کے شکار سری لنکا کی مدد کے لئے پہلے کرپشن کم کرنے، ٹیکسوں میں اضافہ اور ایندھن پر سبسڈی ختم کرنے کی شرط لگا دی۔تفصیل کے مطابق دارالحکومت کولمبو میں 20 جون سے موجود آئی ایم ایف کے وفد نے 10روزہ مذاکرات کے بعد جاری بیان میں کہا ہے کہ سری لنکا کو معیشت بچانے کے لییکرپشن کا خاتمہ اور ٹیکسوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا چاہیے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ بیل آ ؤٹ پیکیج سے قبل سری لنکا کو مالیاتی خسارہ ٹھیک کرنے اور دور رس ٹیکس اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سری لنکن حکام نے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کی تشکیل میں کافی پیش رفت کی ہے۔ سری لنکن حکام کے ساتھ بیل آو?ٹ پیکیج پر بات چیت جاری رکھیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سری لنکا نے حال ہی میں ٹیکس میں کٹوتیوں کی واپسی اور توانائی پر سبسڈیز کو کم کیاہے، جب کہ رواں سال ایندھن کی قیمتوں میں 400 فیصد تک اضافہ ہوا ہے


