لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج پر تشدد معمول بنتا جارہا ہے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی نے مرکزی بیان میں کہا کہ بلوچستان کو ایک بار پھر دانستہ بے امنی، خونریزی و ڈاکہ زنی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج پر تشدد روز کا معمول بنتا جارہا ہے۔ بلوچستان میں 2008سے 2013کے حالات پیدا کیے جارہے ہیں ڈکیتی و رہزنی کے واقعات میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے عام شہریوں کا جان و مال، ننگ و ناموس محفوظ نہیں۔ وزیر داخلہ کے علاقہ میں نیشنل ہائی وے پر نو نو کوچز کو ایک ساتھ لوٹا جاتا ہے لیکن کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے۔ بیان میں مذید کہا گیا ہے نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے گزشتہ دنوں علاقہ مستونگ کھڈکوچہ کے معتبر شخصیت حاجی جان محمد شاہوانی کے دو بیٹوں اور بھتیجوں کو گھر سے اٹھایا گیا۔ لاپتہ سیاسی کارکنوں کے لواحقین جب اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پرامن احتجاج کرتے ہیں تو ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور گرفتار کیا جاتا ہے یہاں تک کے ان کے تشدد سے خواتین تک محفوظ نہیں۔نیشنل پارٹی نے گزشتہ روز زیارت میں مبینہ جعلی مقابلے میں لاپتہ افراد کی ہلاکت کے خلاف لواحقین کے احتجاجی ریلی پر تشدد اور پولیس گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔


