بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ انسانی المیہ اور اسٹیٹ ٹیرر ازم ہے، سینیٹر مشتاق خان
اسلام آباد (انتخاب نیوز) نجی ٹی وی کے پروگرام میں شریک جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے سوال پر جواب دیا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مسنگ پرسنز تھے یا نہیں، وہ مسنگ پرسنز ہیں، پارلیمنٹ کی کمیٹی میں سیکورٹی ادارے کے اعلیٰ ذمے داران نے کہا کہ یہ لوگ مسنگ پرسنز نہیں تھے، میں نے کہا کہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پانچ پانچ سال، دس دس سال سے لوگ غائب تھے پھر آپ لوگوں نے جیلوں کے حوالے کردیے، پھر ان کی ضمانتیں ہوئیں اور وہ واپس آئے، کچھ ایسے بھی ہیں جن کی لاشیں کہیں ایک جگہ کہیں دوسری جگہ پڑی ہوئی تھیں جو لوگوں نے اٹھائی ہیں۔ یہ ایک انسانی المیہ ہے، ریاست کو اس کا حل کرنا چاہیے، یہ اسٹیٹ ٹیررازم ہے۔ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو وہ مسنگ پرسنز کیلئے آواز اٹھاتے تھے، جلسے بھی کرتے تھے اور دھرنے بھی دیتے تھے لیکن جب سے وہ حکومت میں آئے تو انہوں نے مسنگ پرسنز کا نام بھی نہیں لیا بلکہ اپنی وزیر شیری مزاری کی جانب سے پیش کیے گئے لاپتہ افراد کے حوالے سے پیش بل غائب کردیا۔


