جامعہ بلوچستان کے ملازمین کی مکمل تنخواہوں کی فوری ادائیگی کیجائے ، پروفیسرز پینل
کوئٹہ(انتخاب نیوز)بلوچستان یونیورسٹی پروفیسرز پینل کے ترجمان نے اپنا ایک مطالباتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے ملازمین کی مکمل تنخواہوں کی فوری ادائیگی کیجائے، ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی واحد مادر علمی کے اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین تاحال اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں جسکی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت بلوچستان پر عائد ہوتی ہے، تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے اساتذہ ذہنی طور پر انتہائی پریشان ہیں۔اب چونکہ ہائر ایجوکیشن صوبائی سبجیکٹ بن گیا ہے اور اس بابت 2022 کا اساتذہ دشمن، تعلیم دشمن ایکٹ نافذ بھی ہوچکا ہے تو بلوچستان حکومت یونیورسٹیز کو معاشی، انتظامی اور تعلیمی لحاظ سے مضبوط بنانے کیلئے یونیورسٹیز کے اعلیٰ اختیار داروں کو جوابدہ بنا کر یونیورسٹیز کی زبوں حالی (معاشی، تعلیمی، انتظامی) پر ایک بااختیار کمیشن بنائے اور تمام ذمہ داروں کا تعین کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ترجمان نے مزید کہا کہ جامعہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں پروفیسرز پینل یونیورسٹی کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتاہے اور جامعہ بلوچستان خصوصاً اور بلوچستان کے اعلیٰ تعلیم کی بہتری کیلئے ہر جائز اقدام کا حمایت کرتا ہے اور ہر ناجائز کام کا بھرپور مذمت اور روکنے کیلئے اپنا آئینی جدوجہد جاری رکھے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک ظالمانہ آئین کو منظور کر کے اساتذہ کرام کی منتخب نمائندگی کو یکسر رد کرکے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اھم سٹیک ہولڈرز کو باہر کرکے بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا جس سے صوبہ کا مستقبل داو¿ پر لگا دیا. پروفیسرز پینل حکومت کے یونیورسٹیز ماڈل ایکٹ 2022 کو تعلیم دشمن، اساتذہ دشمن قرار دیتے ہوئے روز اول سے اساتذہ کی نماہندگی کے بغیر مسترد کیاتھا اور آج بھی پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان حکومت یونیورسٹیز ایکٹ میں ترمیم کرکے اساتذہ کو انکی نمائندگی دے تاکہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ترجمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت بلوچستان جامعہ بلوچستان کو 10 ارب روپے کا بیل آو¿ٹ پیکیج فوری طور پر جاری کردے۔ترجمان نے مزید کہا کہ جلد یونیورسٹیز ماڈل ایکٹ 2022 پر تمام یونیورسٹی اساتزہ تنظیموں،سیاسی پارٹیوں، دانشوروں اور طلباءپر مشتمل ایک سیمینار کا انعقاد کرایا جائے گا جسمیں ایکٹ کی تعلیم دشمن دفعات کی نشاندہی کی جائیگی اور اسکی تدارک کیلئے ترامیم تجویز کئے جائینگے. آخر میں پروفیسرز پینل کے ترجمان نے جامعہ بلوچستان کے ملازمین کی مکمل تنخواہوں کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ورنہ اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین سخت سے سخت احتجاج پر مجبور ہو کر بھر پور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔


