سانحہ زیارت، حکومت سے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، مظاہرین کا میتوں کے ہمراہ چوتھے روز بھی دھرنا جاری

کوئٹہ (یو این اے) زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے 14 پولیس اہلکاروں کے ورثا کا میتوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر جاری رہا۔ مرکزی شاہراہ پر دھرنے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔گزشتہ رات حکومتی نمائندوں اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے، تاہم دونوں فریق کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے، جس کے باعث مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مسئلے کا باعزت اور پرامن حل نکالا جا سکے۔دھرنا کمیٹی اور شہدا کے ورثا نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری اور تحریری یقین دہانی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مانگی کے پہاڑی علاقے میں تعینات پولیس اہلکاروں کو مناسب سکیورٹی، جدید اسلحہ اور بروقت کمک فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ورثا نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، شہدا کے خاندانوں کی مکمل مالی کفالت، اہل خانہ کو سرکاری ملازمتیں، بچوں کے لیے مفت تعلیم اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔احتجاجی دھرنے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما، قبائلی عمائدین، وکلا، تاجر برادری، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ شرکا نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مثر حکمت عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مقام پر فضا انتہائی سوگوار رہی، جہاں شہدا کے اہل خانہ، خواتین، بزرگ اور بچے اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ موجود رہے اور انصاف کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ دوسری جانب انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے دھرنے کے مقام پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری بھی تعینات ہے۔واضح رہے کہ مانگی کے پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کے حملے میں متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے، جس کے بعد پورے بلوچستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے اور پولیس اہلکاروں کی بہتر سکیورٹی کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں