سانحہ زیارت کیخلاف دھرنا میتوں کے ہمراہ چھٹے روز بھی جاری، حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار
کوئٹہ (یو این اے) سانحہ زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین، آل پارٹیز دھرنا کمیٹی اور بلوچستان حکومت کے درمیان جاری مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے باعث فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد دھرنا کمیٹی اور شہدا کے لواحقین نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا بدستور جاری رکھا جائے گا۔کوہلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے، جہاں شہدا کے لواحقین کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں، وکلا، قبائلی عمائدین، سماجی تنظیموں اور شہریوں کی بڑی تعداد جوق در جوق پہنچ کر اظہارِ یکجہتی کر رہی ہے۔ شرکا کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب دھرنا گاہ اور اس کے اطراف کوئٹہ پولیس کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی بھی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہوئی، تاہم مطالبات پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔ دھرنا کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔


