رکھنی، بستی اللہ بخش حلوانی کے سیکڑوں بچے تعلیم کی بنیادی سہولیات سے محروم، پانچ سال قبل منظور کیا گیا سرکاری اسکول تاحال تعمیر نہ ہوسکا
رکھنی (نمائندہ انتخاب) بستی اللہ بخش حلوانی کے تقریباً سو بچے اور بچیاں برسوں سے تعلیم کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ پانچ سال قبل منظور ہونے والا سرکاری اسکول تاحال تعمیر نہ ہو سکا، جس کے باعث علاقے کے بچوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اہل علاقہ کے مطابق بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت ایک نجی استانی کا انتظام کیا گیا تھا، تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اب غریب خاندان اس کا خرچ برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ مناسب عمارت، کلاس رومز اور دیگر بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً سو بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔ بستی کے معصوم بچوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھی دیگر بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں کتابیں، اساتذہ اور باقاعدہ اسکول کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ بھی اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، محکمہ تعلیم بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ منظور شدہ اسکول کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جائے، بوائز اور گرلز اسکول کے ساتھ مڈل اسکول بھی قائم کیا جائے، اساتذہ تعینات کیے جائیں اور علاقے کے بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے مزید محروم نہ رکھا جائے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو متعدد بچوں کا تعلیمی مستقبل مزید متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت فوری توجہ دے کر اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالے۔


