زیارت اور ہرنائی میں امن کے قیام کےلیے جامع آپریشن ناگزیر ہے، نور محمد دمڑ

کوئٹہ: صوبائی وزیر خوراک نو محمد دمڑ نے کہا ہے کہ ضلع زیارت میں پولیس کے جوانوں پر ہونے والا بزدلانہ حملہ تاریخ کا ایک دلخراش سانحہ ہے۔ زیارت کی تاریخ میں اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی رونما نہیں ہوا۔ آج پورا ضلع سوگوار ہے۔ ہر گھر، ہر گلی اور ہر انسان کا دل غم میں ڈوبا ہوا ہے۔انہوں نے شہید ہونے والے پولیس کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ہمارے بہادر سپوتوں نے دن بھر دہشتگردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور آخری گولی تک وطن کے دفاع کا حق ادا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ یہ عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔صوبائی وزیر نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان سے پرزور اپیل کی ہے کہ ضلع زیارت اور ضلع ہرنائی میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے دونوں اضلاع کے پہاڑی علاقوں میں ایک جامع اور مو¿ثر آپریشن کیا جائے۔ دہشت گردوں اور ان کی سہولت کاری کرنے والے عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان علاقوں میں ریاست کی رٹ قائم کی جا سکے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔حاجی نور محمد دمڑ نے کہا کہ زیارت اور ہرنائی کے عوام اور قبائلی عمائدین اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت بلوچستان وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور صوبے سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہدائ کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ زیارت ایک پرامن ضلع ہے اور اس کا امن ہر صورت بحال رکھا جائے گا۔ زیارت اور ہرنائی کے عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ شہدائ کے خون سے وفا کرتے ہوئے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہیں امید ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور فیصلہ کن کارروائی سے ان علاقوں میں امن و ترقی کا نیا دور شروع ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں