کوئٹہ، اساتذہ مطالبات کی منظوری کیلئے سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دیگر کا سیرینا چوک پر دھرنا
کوئٹہ (انتخاب نیوز) اساتذہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے سیاسی پارٹیوں، اساتذہ، ملازمین تنظیموں، وکلاء برادری وسول سوسائٹی کا گزشتہ روز کو سرینا چوک پر دھرنا دیا گیا۔ احتجاجی جلوس مختلف شاہراہوں سے گزرتا ہوا سرینا چوک پر پہنچا، صوبائی حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی، آل ملازمین اتحاد، ملازمین تنظیموں، وکلاء اور سیاسی پارٹیوں وسول سوسائٹی کا اساتذہ مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان تادم مرگ بھوک ہڑتال سائیسویں روز بھی جاری رہی۔ ہڑتالی اساتذہ کی حالت انتہائی تشویشناک، حکومتی بے حسی بدستور روایتی انداز میں جاری۔ علاوہ ازیں اساتذہ مطالبات کے حق میں آل ملازمین اساتذہ و مزدور تنظیموں، سیاسی پارٹیوں، تاجر برادری، سول سوسائٹی، بلوچستان بار وکلاء برادری نے میٹرو پولیٹن کے سبزہ زار پر جمع ہوکر احتجاجی جلوس سرکلر روڈ، جناح روڈ، عدالت روڈ، جی پی او چوک سے ہوتا ہوا صوبائی اسمبلی سرینا چوک پہنچ کر دھرنا دیا۔ اساتذہ مطالبات کے حق میں اور نااہل صوبائی حکومت کیخلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی، دھرنا شرکاء سے خان زمان، محمد یونس کاکڑ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام نبی مری، سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ودیگر نے خطاب میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں اساتذہ کا بلند مقام ہوتا ہے، حکومت کو فوری طور پر اساتذہ کے مطالبات منظور کرکے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں۔ سالار اساتذہ حاجی مچیب اللہ غریشن تشویشناک حالت میں دھرنے میں موجود رہے۔ احتجاجی دھرنے کے بعد احتجاجی جلوس دوبارہ مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا کوئٹہ پریس کلب پہنچا۔ احتجاجی مظاہرے سے پشتونخوا میپ کے سینئر ڈپٹی چیئرمین سابق وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی بے حسی کی مذمت کی اور اساتذہ کے مطالبات کی نوٹیفکیشن اور مسائل کے حل کا نکالنے کا کہیں گے۔ احتجاجی جلوس ودھرنے میں اساتذہ، خواتین اساتذہ اور بچے، آل ملازمین شامل تھے، سیکرٹری جنرل عبدالقادر رئیسانی نے تمام سیاسی پارٹیوں، اساتذہ، ملازمین تنظیموں وکلاء برادری کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اساتذہ کے مطالبات منظور نہیں ہونگے۔ احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ احتجاجی مظاہرے ودھرنے کے اختتام پر تادمرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں عبدالرحیم زیارتوال، غلام نبی مری، موسیٰ جان بلوچ اور نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اسحاق بلوچ ودیگر کے درمیان مشاورت جاری رہیں اور اساتذہ کی تشویشناک حالت پر افسوس کا اظہار کیا۔


