ایف آئی اے کا کیسکو کے سابق سی ای او اور چیف انٹرنل آڈیٹر کے خلاف مقدمہ درج، تحقیقات شروع
کوئٹہ ( آئی این پی ) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)بلوچستان زون نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو)کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر یوسف شاہ خان اور چیف انٹرنل آڈیٹر محمد احمد بلال کے خلاف دوہری ملازمت، جعلسازی، دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کوئٹہ کی جانب سے4اگست2026کو درج ایف آئی آر نمبر FIR-ACC-QTA-53/26کے مطابق مقدمہ کیسکوکے چیف انٹرنل آڈیٹر محمد احمد بلال ولد جلال الدین اور اس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یوسف شاہ خان ولد رحمت شاہ خان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق محمد احمد بلال پر الزام ہے کہ انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS)کوئٹہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ (BPS-18)کی حیثیت سے ملازمت کے دوران کیسکو میں چیف انٹرنل آڈیٹر کے عہدے کے لیے درخواست دی اور اپنی سابقہ ملازمت سے متعلق حقائق چھپائے۔ایف آئی اے کے مطابق دستاویزی شواہد سے ظاہر ہوا کہ محمد احمد بلال نے 22ستمبر 2021سے 30جون 2022تک بیوٹمز سے لین حاصل کی اور اسی عرصے کے دوران کیسکو میں ملازمت اختیار کی۔ الزام ہے کہ جون 2022میں کیسکو کو جمع کرائے گئے بائیو ڈیٹا میں انہوں نے غلط بیانی کرتے ہوئے بیوٹمز میں اپنی سروس 21ستمبر 2021کو ختم ہونے کا ذکر کیا حالانکہ وہ ادارے کے ملازم تھے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس طرح ملزم نے مبینہ طور پر دوہری ملازمت کرتے ہوئے دونوں اداروں سے تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کیں۔دوسری جانب ایف آئی اے نے کیسکو کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یوسف شاہ خان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ محمد احمد بلال کی مبینہ دوہری ملازمت سے آگاہ تھے تاہم اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کے کنٹریکٹ میں توسیع کی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق کیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور ہیومن ریسورسز کی سفارشات کو نظرانداز کرتے ہوئے مئی 2025میں محمد احمد بلال کے کنٹریکٹ میں ایک سال کی مبینہ طور پر غیر قانونی توسیع کی گئی۔ایف آئی اے کے مطابق وزارت توانائی پاور ڈویژن نے 30مارچ 2026کو تمام ڈسکوز کو خط کے ذریعے لین کی بنیاد پر سی لیول تقرریوں سے روکنے کی ہدایت کی تھی تاہم الزام ہے کہ کیسکو کے سی ای او نے یکم جون 2026کو آفس آرڈر جاری کرکے محمد احمد بلال کے کنٹریکٹ میں مزید 6ماہ کی توسیع کردی۔ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمد احمد بلال کے خلاف اندرونی انکوائری شروع ہونے کے بعد کیسکو کے اس وقت کے سی ای او جو انکوائری کے کنوینر بھی تھے نے کارروائی کو قبل از وقت ختم کرا دیا۔ ایف آئی اے کے مطابق دفعہ 160ضابطہ فوجداری کے تحت جاری نوٹس کا جواب دینے سے بھی سی ای او نے مبینہ طور پر انکار کیا۔ایف آئی اے نے دونوں ملزمان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2)کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات 417، 419، 420، 468، 471، 34اور 109کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق کیس کی تفتیش سب انسپکٹر رانا رشید رضا کے سپرد کی گئی ہے جبکہ ایف آئی آر کی نقول ایف آئی اے کے متعلقہ اعلیٰ حکام، اسپیشل جج اینٹی کرپشن کوئٹہ، جوڈیشل مجسٹریٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کردی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق کارروائی ایف آئی اے کی انکوائری نمبر 341/2025کی روشنی میں عمل میں لائی گئی، جس میں کیسکو میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور جعلی تقرریوں سے متعلق شواہد سامنے آئے تھے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق مقدمے کی تفتیش میرٹ پر جاری ہے اور تحقیقات کے دوران مزید شواہد سامنے آنے کی صورت میں کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔


