پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اسلام کے نام پر ہی اس کی بقا ہے،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس

کراچی (انتخاب نیوز) پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام کے نام پر ہی اس کی بقا ہے۔ قیام پاکستان کی منزل نفاذ اسلام ہے اور اس کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ امن سب کی ضرورت ہے اور سب کو کوشاں رہنا چاہئے۔ عقیدہ ختم نبوتؐ کا تحفظ تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اہم سرکاری اور ریاستی عہدوں پر مسلمان ہی فائز ہو سکتے ہیں۔ قادیانیوں کے حوالے سے آئین اور قانون میں پابندی کیلئے ضروری اقدام کئے جائیں، اہم سرکاری عہدوں اور مختلف ممالک میں تعینات قادیانی سفیروں کو ہٹا دیا جائے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنی ترجیحات اور پالیسیاں بناتے وقت اسلام اور پاکستان کو مقدم رکھیں اور قادیانی نواز افراد سے دور رہیں۔ بارشوں اور سیلاب کے متاثرین کی ہرممکن مدد کی جائے۔ جو قادیانی مسلمان بن کر دھوکہ دے رہے ہیں ا ن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ عالمی اداروں کے دباو یا کسی اور وجہ سے عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کی آئینی اور قانونی شقوں کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کوئی بھی شخص ختم نبوت پر ایمان رکھے بغیر مسلمان نہیں ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعرات کی شب مزار قائد کے سامنے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے مرکزی امیر مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مرکزی نائب امیر مولانا اللہ وسایا، مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی، خواجہ خلیل احمد، خواجہ عزیز احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، سینیٹر مولانا عطا الرحمن، مرکزی مبلغ مفتی راشد مدنی، مولانا سید احمد یوسف بنوری،مولانا اعجاز مصطفی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مولانا راشد سومرو، قاری محمد عثمان، مولانا عبدالکریم عابد، صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کراچی کے صدر سعید غنی، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر معراج الہدی صدیقی، پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال، ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، جمعیت اہلحدیث مولانا ضیا شا اللہ بخاری، جمعیت علمائے پاکستان(نورانی)کے رہنما مولانا قاضی احمد نورانی اور دیگر نے خطاب اور قراردادوں میں کیا۔مولانا حافظ ناصرا لدین خاکوانی نے کہا کہ 1953 علما اور مسلمانوں نے ختم نبوت کی اس تحریک میں محنت کی اور ان کی محنت کا نتیجہ تھا کہ 7 ستمبر 1974 کو قومی اسمبلی میں فیصلہ کیا گیا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ ہمیں لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے محنت کرنی چاہئے اور یہی اصل کام ہے۔ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کو پڑھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ ہمارا مقصد ہے کہ نبی حق کی اتباع کرکے اللہ کے دربار تک پہنچیں۔ مقررین نے کہا کہ ہمارے اکابر نے تحفظ ختم نبوت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور ان کی قربانیوں کی وجہ سے فتنہ قادیانیت بے نقاب ہوا ہے۔ ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ہر مسلمان تحفظ ختم نبوت میں اپنا سب کچھ قربان کرنا اپنا ایمانی فرض سمجھتا ہے۔ مقررین نے ختم نبوت کی آئینی ترمیم کرنے والی اسمبلی کے ارکان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اس فتنے کا آئینی اور قانونی طور پر راستہ روکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مفتی محمود، مولانا یوسف بنوری، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چوہدری ظہور الہی، ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ بختیار اور دیگر اکابرین کی کوشش اور قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مقررین نے کہاکہ ختم نبوت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے۔ کانفرنس میں مختلف قراردادیں منظور کی گئیں۔ ایک قرار داد میں کہا گیا کہ ہم سب کو اپنے ملک سے محبت کے عہد کی تجدید کرنا ہو گی، اس لئے کہ ملک ہے تو ہم سب ہیں، اگر خدانخواستہ ملک غیر مستحکم ہوایا اسے کچھ ہو گیا تو محفوظ کوئی بھی نہیں رہے گا۔ایک اور قرار داد میں کہا گیا کہ آج کا یہ اجتماع سمجھتا ہے کہ یہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام کے نام ہی سے اس کی بقا ہے، لہذا قیام پاکستان کی منزل نفاذ اسلام کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے بھی یہ ملک امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔خصوصا عقید ختم نبوت، جس کے تحفظ کرنے کا پاکستان کو سرکاری سطح پر اعزاز حاصل ہے، اس عقیدے کی سلامتی اور اس کے خلاف تحرکات مثلا قادیانی فتنے کے خلاف عہد و جہد جاری رہنی چاہئے۔پاکستان اسلامی ملک ہے اور اسلامی ملک کے سرکاری وریاستی عہدوں اور کلیدی مناصب پر مسلمان ہی فائز ہو سکتے ہیں لہذا قادیانیوں کا داخلہ تمام کلیدی عہدوں پر بند کیا جائے اور جس عہدے پر جو قادیانی فائز ہے، اسے برطرف کیا جائے۔پچھلے دور حکومت میں ایک سکہ بند قادیانی بلال حئی جس کا تعلق سیالکوٹ سے ہے کو آذربائیجان میں پاکستان کا سفیر بنا کر تعینات کیا گیا جو ابھی تک اس عہدے پر براجمان ہے، یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ آذربائیجان میں مقیم قادیانی سفیر کو واپس بلا کر اس کی جگہ کسی مسلمان اور محب وطن پاکستانی کا تقررکیا جائے۔تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ اپنی ترجیحات اور پالیسیاں اسلام اور پاکستان کو مقدم رکھ کر طے کر میں اور قادیانی نواز افراد سے اپنی صنف بندی جدا کریں۔کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں