سرکاری اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال، متعدد کو غشی کے دورے، بیشتر ہسپتال میں داخل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان کے صوبائی قائدین کا استاذہ وطلباء مسائل کے حل اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی وتعلیمی معیارکی بلندی کیلئے جاری تادم مرگ بھوک ہڑتال 35ویں روز بھی جاری رہی بھوک ہڑتالی اساتذہ کی صحت انتہائی کمزور اور حالت بگڑتی جارہی ہے،شدید بخار،سردرد سے نڈھال رہے 4بھوک ہڑتالی اساتذہ کئی دنوں سے سول ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھے گئے ہیں جنہیں معدے،آنتوں اور گردوں کی انفیکشن کے عارضی لاحق ہیں جسم کے مردہ جراثیم جسمانی کمزوری کی وجہ سے نت نئے امراض کا موجب بن رہے ہیں تمام بھوک ہڑتالی اساتذہ کو دن بھر غشی کے دردوں،بے ہوشی اور غنودگی کا سامنا رہا گزشتہ شب سیکرٹری تعلیم نے سول ہسپتال اور کیمپ آکر بھوک ہڑتالی قائدین کی عیادت کی اور اساتذہ کی اپ گریڈیشن اور دیگر مسائل پر وزیراعلی بلوچستان کیجانب سے منظوری اور دیگر لازمہ کارروائی کی تکمیل کابینہ کا خصوصی اجلاس کے انعقاد اور نوٹیفکیشن کے اجراء میں حائل رکاوٹیں دور کرکے برق رفتاری سے ایک دو روز میں واضح پیش رفت ہونے کیلئے وزیراعلی،محکمہ تعلیم وفنانس کی جانب سے ٹھوس اقدامات اٹھانے آگاہ کیا،دریں اثناء صوبائی صدر حاجی محیب اللہ غرشین نے معاملات کے حل کے ضمنی میں حکومت کی طرف سے اساتذہ مسائل خصوصا جونیئر اساتذہ کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے تیز رفتاری سے اقدامات اٹھانے کی پیش نظر 6ستمبر کو ہونیوالے مرد وخواتین اساتذہ کے احتجاجی جلسہ،جلوس ومظاہرہ اور دیگر احتجاجی پروگرام وزیراعلی بلوچستان،وزراء ایم پی ایز اور سیکرٹری تعلیم کی ٹھوس یقین دہانی اور ضمانت پر ملتوی کرنے کا اعلان کیا،جونیئر ٹیچرز کی اپ گریڈیشن سے نہ صرف اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور وقارمیں اضافہ ہوگا بلکہ کسی حد تک ان کی مالی ومعاشی مشکلات میں کمی ہوگی،پریس ریلیز میں اساتذہ کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ احتجاجی کیمپ میں بڑی تعداد میں موجود رہیں بہت جلد انہیں اپ گریڈیشن کے نوٹیفکیشن کی صورت میں خوشخبری ملیگی اساتذہ کے بہکاوے میں نہ آئیں اوراتحادواتفاق برقرار رکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں