بارشوں اور سیلاب متاثرہ افراد کا سب کچھ لٹ گیا، حاجی لشکری

کوئٹہ (انتخاب نیوز) سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات میں لوگوں کا سب کچھ لٹ گیا، بلوچستان ایک بہت بڑے المیہ سے گزررہا ہے، بین الصوبائی کانفرنس طلب کرکے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے ماسٹر پلان تشکیل دیا جائے۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو سراوان ہاوس میں مختلف تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے طلبہ کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے متاثرین کو سر چھپانے کیلئے چھت، خوراک اور ادویات کی فوری ضرورت ہے یہ لو گ جس صومے اور پریشانی سے دوچار ہیں انہیں نفسیاتی ریلیف فراہم کرنے کیلئے ماہرین نفسیات کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا جائے بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات میں لوگوں کا سب کچھ لٹ گیا ایسے میں حکومت متعلقہ محکموں اور انتظامیہ کو پابند کرے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والے نقصانات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مبنی رپورٹ پیش کریں محکمہ زراعت، تعلیم، صحت، مواصلات وتعمیرات صوبے کے تمام اضلاع میں لوگوں کی ضروریات اور نقصانات کا تخمینہ لگاکر صورتحال سے حکومت اورعوام کو آگاہ اور ان کے نقصانات کے ازالہ اور آئندہ کی پیش بندی کیلئے طریقہ کار وضع کرے۔ خصوصاً محکمہ زراعت ربیع کی فصل کے کاشت میں زمینداروں کیساتھ مکمل تعاون کرکے ان کی رہنمائی کرے تاکہ زمیندار اور دہقان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں ورنہ یہ آئندہ کئی برسوں تک اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکیں گے۔ محکمہ تعلیم ہنگامی بنیادوں پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگاکر رپورٹ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو پیش کرے تاکہ ان علاقوں میں اسکولز کھلتے ہی بچوں کے تعلیمی تسلسل کو آگے بڑھایا جاسکے کیونکہ اس سے قبل عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران بھی صوبے میں درس و تدریس کا عمل متاثر ہوا تھا اب سیلاب سے صوبے کا علمی نقصان ہونے سے صوبے کی پسماندگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے اور وفاق میں وہ محکمے اور ادارے جن کی ذمہ داری تباہ حال انفراسٹرکچر کو بحال کرنا ہے وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں، انہوں نے تجویز دی کہ حکومت فوری طور پر بین الصوبائی کانفرنس طلب اور ماسٹر پلان تشکیل دے کر صوبے میں ہونے والے نقصانات کے ازالہ، انفراسٹرکچر اور شہری زندگی کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور عالمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ متاثرین کو امداد فراہم اور ان کو درپیش مشکلات اور پریشانیوں سے نجات دلائیں، اگر بلوچستان حکومت کے پاس وسائل نہیں تو وہ وفاق اور ملکی و بین الاقوامی ڈونرز سے بات کرکے اس بہت بڑے بحران اور المیہ کے نتیجے میں صوبے کی پسماندگی میں جو اضافہ ہوا ہے اس پر قابو پایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں