جماعت اسلامی ہند کی پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے رہنماﺅں ، کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) کی طرف سے مسلم تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے دفاتر پر چھاپوں اور سو سے زائد پارٹی رہنماﺅں اور کارکنوں کی مذمت کی ہے۔ این ائی اے اور ای ڈی نے اتر پردیش، کیرالہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور تمل ناڈو سمیت گیارہ ریاستوں میں پاپولر فرنٹ فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے تقریباً 106 ، رہنماﺅں،کارکنوں کو جمعرات کے روز چھاپوں کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔گرفتار کیے گئے لوگوں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید سعادت اللہ حسینی نے ایک بیا ن میں کہا کہ جماعت اسلامی پی ایف آئی کے خلاف کریک ڈاﺅن کے حوالے سے سخت فکر مند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسیاں ایسے لوگوں کی تفتیش کر سکتی ہیں جن کے خلاف ان کے پاس واضح ثبوت ہیں لیکن اس طرح کی کارروائیاں غیر جانبدارانہ اور سیاسی محرکات سے پاک ہونی چاہئیں۔ انہوںنے استفسار کیا کہ کیا این آئی اے اور ای ڈی چھاپوں میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی پیروی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے اور ای ڈی نے جس طرح سے ملک بھر میں بیک وقت چھاپے مارے اور پی ایف آئی کو نشانہ بنانااس نے بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ یہ کارروائی اس وجہ سے بھی قابل اعتراض ہو جاتی ہے کہ کھلے عام نفرت پھیلانے اور تشدد میں ملوث کئی گروہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی لہذایہ چھاپے بہت سے سوالات کو جنم دیتے ہیں،کیا چھاپوں کا مقصد کسی مخصوص حلقے کو خوش کرنا ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا یہ ایک طرح کی خوشامد اور ووٹ بینک کی سیاست نہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایسے تمام چھاپوں اور کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے جن میں لوگوں کو غیر منصفانہ طریقے سے ہراساں کیا جاتا ہے چاہے ان کا تعلق اپوزیشن، اقلیتوں یا معاشرے کے کسی بھی طبقے سے ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں