خاران سے منتخب ایم پی اے صوابدیدی فنڈ روکنے کیلئے محکموں پر دباﺅ ڈال رہے ہیں، عبدالکریم نوشیروانی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ ایم پی اے خاران مرکز اور صوبے سے ہمارے نام سے ملنے والے صوابدیدی فنڈز کو روکنے کیلئے محکمہ کے آفیسران کو دھونس دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ سے خاران کیلئے منظور ہونے والے بجلی کے ٹرانسفارمرز کو اپنے نام سے منسوب کرنے کیلئے کیسکو حکام پر ناجائز دباﺅ ڈال رہے ہیں جن سے خاران کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ میری بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ وہ ایم پی اے خاران کے اس ناروا رویئے اور غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لیں اور واپڈا حکام کو جلد از جلد یہ ٹرانسفارمر نصب کرنے کے احکامات صادر کریں ورنہ خاران کے عوام ایم پی اے خاران کے اس ناروا و غیر قانونی رویے کے خلاف سخت احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں یہ بات انہوں نے خاران کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل سابق وزیراعلیٰ جام کمال میر شعیب نوشیروانی کی دعوت پر خاران تشریف لائے تھے جہاں انہوں نے میر شعیب نوشیروانی کی درخواست پر روڈ سیکٹر اور واٹر سپلائی اسکیمات کے لئے 50کروڑ روپے کا فنڈ جاری کیا تھا اس فنڈز سے جہاں روڈ خراب تھے ان کی مرمت کی گئی اور اسی طرح واٹر سپلائی اسکیمات مکمل کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ سابق وزیراعلیٰ جام کمال سے دورے کے موقع پر خاران کے نمائندوں نے ملاقات کی تھی اور ان سے خاران کے لئے 100بجلی کے ٹرانسفارمرز دینے کی درخواست کی تھی سابق وزیراعلیٰ نے 40 ٹرانسفارمرز کی منظوری دی اور اسکے لئے فنڈز بھی ریلیز کردیئے اس دوران کیسکو حکام نے سروے کیا تین سے چار سروے کے بعد مہنگائی کے باعث اس ڈیڑھ سال کے دوران خاران کے لئے ٹرانسفارمرز کم ہوکر 40 سے 34 رہ گئے جن کا فنڈز بھی ریلیز ہوگیا ہے لیکن ایم پی اے خاران واپڈا حکام پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ یہ ٹرانسفارمرز ان کے نام سے منسوب کرکے خاران میں لگائے جائیں۔ انہوں نے سروے کرنے والی ٹیم کو بھی دھونس دھمکی دی تاہم واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانسفارمرز ایم پی اے فنڈز سے نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ سے ہیں ایم پی اے کے نام سے منصوب نہیں ہوسکتے لیکن ایم پی اے خاران بضد ہیں اور ان ٹرانسفارمرز کی تنصیب میں روڑے اٹکا رہے ہیں جوکہ غیر قانونی عمل ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے خاران محکموں کے آفیسران کو اپنا غلام سمجھتے ہیں وہ پی ایچ ای، بی اینڈ آر اور دیگر محکموں میں مداخلت کرتے ہوئے آفیسران کو دھونس دھمکیاں دے رہے ہیں اور ہمارے ترقیاتی کاموں کے فنڈز پر اثر انداز ہورہے ہیں لہذا میری چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے اپیل ہے کہ وہ ایم پی اے خاران کو ایسے غیر قانونی اقدامات اور مداخلت سے روکنے کے لئے نوٹس لیتے ہوئے واپڈا حکام کو خاران میں جلد از جلد ان 34 ٹرانسفارمرز کی تنصیب کے احکامات صادر کریں۔ انہوں نے کہاکہ خاران ٹان اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اگر ایم پی اے خاران کے اس ناروا سلوک کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو عوام احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں جسے خاران سے طول دیکر رخشان ڈویژن تک بڑھایا جائیگا۔


