بچوں کے ہاتھوں میں اوزار نہیں کتابیں ہونی چاہئیں، چائلڈ لیبر کا خاتمہ ملکی ترقی اور سماجی انصاف کیلئے ناگزیر ہے، چیئرپرسن بی آئی ایس پی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئر پرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینٹر روبینہ خالد نے چائلڈ لیبر کے عالمی دن کے حوالے سے اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ ایک منصفانہ، ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 11 بچوں سے جبری مشقت اور استحصال کی ممانعت کرتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-A کے تحت ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے۔ بچوں کے ہاتھوں میں اوزار نہیں بلکہ کتابیں ہونی چاہئیں۔ بچوں کو مزدوری پر مجبور کرنے والے سماجی اور معاشی عوامل کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، صحت اور تحفظ کی فراہمی ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ Employment of Children Act 1991 اور دیگر متعلقہ قوانین بچوں کو خطرناک مشقت سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے موثر قانون سازی اور اس پر عملدرآمد ضروری ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کمزور خاندانوں کی معاونت کے ذریعے بچوں کے بہتر مستقبل اور تعلیم کے فروغ کے لیے مو¿ثر کردار ادا کر رہا ہے۔ بچوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری درحقیقت پاکستان کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، چائلڈ لیبر کا خاتمہ قومی ترقی اور سماجی انصاف کے لیے ناگزیر ہے۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے حکومت، نجی شعبے، والدین اور سول سوسائٹی کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر بچے کو بچپن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ عالمی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر پر ہم بچوں کے حقوق کے تحفظ، استحصال کے خاتمے اور محفوظ و باوقار مستقبل کی فراہمی کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔


