بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے، وزیر دفاع

ویب ڈیسک : پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ’دہشتگردی‘ افغانستان سے ہو رہی ہے۔منگل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیں اور شاید اسلام آباد براہ راست کابل سے بات نہیں کر رہا۔’میں دو مرتبہ خود کابل گیا ہوں تین سال پرانی بات ہے، میرے ساتھ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی بھی تھے۔ وہ (طالبان حکام) ہر بات مانتے تھے لیکن اصرار کر تے تھے کہ ہم لکھ کر کچھ نہیں دے سکتے۔‘خواجہ آصف کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان نے ترکی اور قطر میں بھی افغان طالبان سے مذاکرات کیے۔خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکام نے ان سے جنگجووں کی نقل مکانی کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے، جو پاکستان دینے کے لیے تیار تھا۔’لیکن ہم ضمانت چاہتے تھے کہ یہ لوگ اگر کہیں دور دراز علاقوں میں لے جائے بھی جاتے ہیں، تو کہیں یہ دوبارہ ہماری سرحد کے قریب آ کر تو نہیں بیٹھ جائیں گے۔‘اپنی تقریر میں خواجہ آصف نے یہ بھی بتایا کہ ’سنہ 2022 سے اب تک دہشتگردی کی جنگ کے دوران 4317 جوان شہید ہو چکے ہیں، جن میں ہمارے فوجی اہلکار بھی شامل ہیں اور سویلین بھی۔‘پاکستانی وزیرِ دفاع نے مزید کہا ’یہ بہت بڑی قربانی ہے۔ یہ کن کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں؟ وہ لوگ جو 45 سال ہمارے مہمان رہے۔ انھوں نے میری، آپ کی اور سب کی مٹی کا نمک کھایا ہے۔ یہ گلے کاٹتے ہیں مسجدوں میں، امام بارگاہوں میں۔

ہمیں ان سے بات کرنے کا کہا جاتا ہے، ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں مگر کوئی ضمانت تو دے، اپوزیشن کے لوگ جرگہ بنا کر افغانستان جاکر مذاکرات کریں۔خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن قیادت افغانستان سے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی گارنٹی لے آئے، ہم سپورٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 1980ء کی دہائی میں امریکا کی پراکسی کا کردار ادا کیا، امریکا سمیت سب نے ہمیں استعمال کیا، وہ خود چلے گئے اور ہم بھگت رہے ہیں۔

 اُن کا کہنا تھا کہ ایران امریکا معاہدے میں ایران سے پابندیاں اٹھنے جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اگر آج سڑکیں محفوظ نہیں تو بھی اس ایوان کی ذمے داری ہے، ایک دوسرے کو طعنہ دینے سے بات نہیں بنے گی۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان میں لوگوں کو پہاڑوں سے نیچے بلا کر بد عہدی کی گئی، بلوچستان میں دہشت گردی کا حل ہم سب مل کر ہی کرسکتے ہیں، ایسا حل ہونا چاہیے جو بلوچستان کے بلوچوں اور پختونوں کو قبول ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں