انتہاپسندی اور تخریب کاری ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں، پشتون رہنما
لورالائی (انتخاب نیوز) پشتون مترقی جمہوری قوم دوست وطن دوست جماعتوں کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ پشتون کلتور پرامن بقائے باہمی کی ضمانت ہے پشتون ثقافت تعصب سے بالاتراور قدم قدم پر محبت کا درس دینے والی ثقافت ہے لیکن بدقسمتی سے پشتون ثقافت کو داغدار کرنے کی سازشیں آج بھی دوام پذیر ہیں ، پشتون افغان کلتور کو داغ دار کرنے کے لئے گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل سازشیں ہورہی ہیں انتہاپسندی اور تخریب کاری ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں بلکہ انتہاپسندی اور دہشت گردی پشتون معاشرے پر مسلط کی گئی ہے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پشتون مترقی و جمہوری سیاسی جماعتوں ، ادیبوں اور دانشوروں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ہم مل کر ہی اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بناسکتے ہیں ۔ان خیالات کااظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری عبیداللہ جان بابت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا صوبائی نائب صدر اصغرعلی ترین اے این پی کے ضلعی صدر منظور کاکڑایڈوکیٹ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما شریف ایڈوکیٹ پشتون تحفظ موومنٹ کے عمر خان لورالائی پشتو ادبی ملگری کے صدر رشید حقمل عبدالخالق خاطر اے این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری راز محمد ترہ کئی ڈپٹی سیکرٹری ملک منظور کاکڑ نے پشتونستان چوک لورالائی بازار میں پشتون کلتور ڈے کے مناسبت سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا اس سے پہلے لورالائی میونسپل کمیٹی ہال کے سبزہ زار میں پشتون کلتور کے حوالے سے مختلف سٹالزلگائے گئے تھے جن میں پشتون تہذیب و ثقافت سے متعلق مختلف تاریخی اشیارکھی گئی تھیں شرکانے سٹالوں میں اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا نوجوانوں نے ڈھول کی تھاپ پر پشتو ملی اتنڑ پیش کئے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 23 ستمبر کو ہر سال پوری دنیا میں پشتون یوم ثقافت کے طو رپر منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کابنیادی مقصد یہ ہے کہ باقی دنیااو رخود پشتونوں کو اپنی تہذیب وثقافت کی جانب مائل کیا جائے ثقافت محض لباس یا پگڑی تک محدود نہیں بلکہ یہ روزہ مرہ معمولات زندگی ،بڑوں کے احترام ، چھوٹوں پر شفقت ،بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق کے تحفظ ، ہمسایوں ، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ ، ظلم کے آگے کھڑے ہونے اور مظلوم کا ساتھ دینے کا مجموعہ ہے چونکہ پشتون ثقافت عین اسلامی اور پرامن و خوشحال زندگی گزارنے کا ایک مکمل کوڈ ہے اس لئے پشتون دشمن قوتوں نے پشتونوں کے خلاف دیگر سازشوں کے ساتھ ساتھ پشتون ثقافت کو بھی داغدار کرنے کی سازشیں کیں یہ سازشیں اب بھی جاری ہیں جن کا مقابلہ اسی طرح ممکن ہے کہ ہم اپنی تہذیب وتمدن اور ثقافت کے زریں اصولوں پر چلتے ہوئے زندگی گزاریں انہوں نے کہا کہ پشتون فطرتا امن پسندہیں لیکن ظالم کے آگے ڈٹ کرکھڑا ہونا بھی پشتون ثقافت کا ناقابل فراموش باب ہے جسے مسخ کرکے پیش کیاجارہا ہے اور پشتونوں پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے لیبل لگائے گئے مقررین نے شرکاپر زور دیا کہ وہ پشتون ثقافت کے تمام پہلوں کو مد نظر رکھ کر ثقافت کے عین مطابق اپنی زندگی گزاریں اور ہونے والی سازشوں کا اتحاد ویکجہتی کے ساتھ مقابلہ کریں۔


