مال بردار کوچ مالکان اور کراچی کسٹم کے مابین معاملات مسافروں کیلئے عذاب بن گئے
لسبیلہ (انتخاب نیوز) مال بردار کوچز مالکان اور کراچی کسٹم کے مابین معاملات مسافروں کیلئے عذاب بن گئے آئے روز ناکہ کھارڑی کوسٹ گارڈ چیک پوسٹ اور حب بائی پاس پر احتجاج اور سڑک بند ہونا روز کا معمول بن گیا احتجاج اور روڈ بلاک میں پھنسنے والے مسافروں بالخصوص خواتین وبچوں اور عمر رسیدہ افراد سمیت ایمبولینسوں میں پڑے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جمعہ کے روز بھی کوئٹہ چمن ٹو کراچی مبینہ نان کسٹم پیڈ سامان بردار کوچز کے مالکان کی طرف سے حب مغربی بائی پاس پر گاڑیاں کھڑی کر دینے سے بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، گاڑیوں میں موجود ہزارو ں مسافر محصور ہو کررہ گئے جبکہ مسافروں کی ایک بڑی تعداد کو حب ندی کے بہتے ہوئے پانی کو عبور کرنے پر مجبور کردیا کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام رہا انتظامیہ اور پولیس غائب، پھنسے ہوئے مسافروں کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا، گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد نے ساکران بند مراد پل سے ناردرن بائی پاس کا راستہ استعمال کیا۔ اس سلسلے میں بتایاجاتا ہے کہ لسبیلہ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر قائم وفاقی اداروں کوسٹ گارڈز اور کسٹم کے اہلکاروں اور افسران اور کوئٹہ چمن ٹو کراچی کے مابین چلنے والی مبینہ نان کسٹم ڈیوٹی پیڈ سامان بردار کو چز کے مالکان کے درمیان مبینہ معاملات پر تکرار کے نتیجے میں آئے روز لسبیلہ حب اور حب کے قریب سندھ بلوچستان سنگم پر قائم کراچی کسٹم چیک پوسٹ پر احتجاج اور روڈ بلاک اب روز کا معمول بن چکا ہے، جمعہ کے روز بھی مال بردار کو چز کے مالکان نے اپنی درجنوں کو چز حب مغربی بائی پاس پر کھڑی کردیں جسکے نتیجے میں مغربی بائی پاس پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور حب مغربی بائی پاس پل کے دونوں طرف کئی کلو میٹر تک گاڑیوں کی طویل قطاریں بھی لگ گئیں جسکی وجہ سے حب اور کراچی سمیت اندرون بلوچستان سفر کرنے والے ہزاروں مسافر گاڑیوں میں کئی گھنٹوں تک قید ہو کر رہ گئے۔ ٹریفک جام میں پھنسے بد حال لوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں خواتین بچے اور عمر رسید افراد بھی شامل تھے نے حب ندی میں بہتے ہوئے پانی کو عبور کر کے حب اور موچکو رئیس گوٹھ تک پہنچنا پڑا جبکہ دیگر گاڑیوں نے ساکران بند مراد پل کے راستے ناردرن بائی پاس کا رخ کیا۔ ٹرانسپورٹرز کے آئے روز کے احتجاج اور روڈ بلاک کی وجہ سے عام مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بالخصوص ایمبولینسوں کو بھی راستہ نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں کو اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے، دو روز قبل رئیس گوٹھ کے مکینوں کی طرف سے بجلی کی بندش کے خلاف روڈ بلاک کے دوران حب کے رہائشی ایک شخص کی ایک کمسن مریضہ بچی نے اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ایمبولینس میں دم توڑ دیا تھا۔


