بلوچستان میں چرچ اور مندر کی زمینوں سے قبضہ ختم کیا جائے، خلیل جارج

کوئٹہ (انتخاب نیوز) یو این وومن کی جانب سے کوئٹہ میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور خلیل جارج نے کہاہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اقلیتی برادری کو مختلف محکموں میں اب تک261ملازمتیں فراہم کردی گئی ہے ،اقلیتوں کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہاہے ،اس حوالے سے چرچ ،مندر کی زمینوں پر قبضہ ختم کیا جائے،جلد صوبائی کمیشن تشکیل دیا جائیگا جس میں اقلیتوں کے مسائل حل میں مدد ملے گی ،کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے سابق جسٹس میتھا کیلاش ناتھ کولی ،سابق وفاقی وزیر روشن خورشید بروچہ ،ڈاکٹر فائزہ مفیدی ودیگر نے بھی سیمینار سے خطاب کیا ،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی امور کے پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے اقلیتی برادری کو ملک میں مختلف مسائل درپیش ہے ،اقلیتی برادری کے 5فیصد کوٹہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا ،انکے حقوق کیلئے جلد ایک بورڈ تشکیل دیا جائیگا ،انہوں نے کہاکہ ہماری نوجوان حکومت سے بہت زیادہ مایوس ہے ،اسی طرح اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان مختلف مسائل کا شکار ہے ،حکومت سنجیدگی کیساتھ حکومتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان طبقے کے مسائل حل کریں ،مقررین نے کہاکہ پورے پاکستان میں اقلیتی برادری اسوقت مختلف مسائل کا شکار ہیں اگر حکومت اس کو حل نہیں کرسکتی تو کمیونٹی میں مزید مایوسی پھیلی گئی انہوں نے کہاکہ اقلیتی برادری کے حوالے سے جوا قدامات اٹھائے جارہے ہیں وہ نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ بلوچستان میں چرچ اور مندر کے زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا جارہاہے کوئٹہ میں ابھی بھی ایسے منیارٹیز کے ایسے اسکول ہے جو پڑھائی کی بجائے کرایئے پر دیئے گئے ہیں ،مقررین نے نادرا میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے مشکلات ہیں ،انہوں نے کہاکہ ٹرسٹ کیلئے ایک قانون بنایا جائے ،تاکہ تمام مسائل کا تدارک ہوسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں