محکمہ فشریز شکار کے جالوں کو ممنوعہ قرار دے کر پابندی لگا رہا ہے، ماہی گیروں کا کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرنا

وندر (انتخاب نیوز) محکمہ فشریز کی جانب سے گٹ جال کو وائرنیٹ کا نام دے کر اس سے مچھلیاں شکار کرنے پر پابندی عائد کرنے کے خلاف ڈام بندر کے ماہی گیروں کی احتجاجی ریلی کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ڈام سونمیانی موڑ پر احتجاج میں شریک ماہی گیروں سے ماہی گیر رہنماﺅں نے احتجاجی ریلی میں شریک ماہی گیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب جب ماہی گیری کا سیزن شروع ہوتے ہی محکمہ فشریز کی جانب سے مختلف حیلے و بہانے بنا کر لسبیلہ کے ساحلی تحصیل سونمیانی وندر کے ساحلی علاقے ڈام بندر کے ماہی گیروں کی ماہی گیری کے جالوں کو ممنوعہ قرار دے کر ان پر پابندی عائد کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 2 صوبوں میں گرم سمندر قدرت نے عطا کیا مگر سندھ اور بلوچستان کی ماہی گیری کی پالیسی یکساں نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے ماہی گیر جدید ماہی گیری کی جالوں سے مستفید نہیں ہو پا رہے جس کے باعث بلوچستان کے ماہی گیر صوبہ سندھ کے ماہی گیروں کی نسبت ان کے مقابلے میں معاشی طور پر ترقی کرنے کے بجائے دن بدن پیچھے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ 40 سالوں سے انہی جالوں کے ساتھ مچھلیاں شکار کرتے آ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ جس لیجر مچھلی کا ہم شکار کرتے ہیں وہ پڑوسی ملک انڈیا سے آتی ہے جوکہ سائڈین کہلاتی ہے جس کا سائز 10 انچ سے اوپر نہیں بڑھتی ہے چاہے آپ اس کو 10 سال تک شکار نہ کریں اس کا سائز نہیں بڑھتی انہوں نے کہا کہ یہ مچھلی انڈیا سے نکل کر سندھ اور پھر بلوچستان کے سمندر سے ہوتی ہوئی ایران اور عرب ممالک کی جانب سفر کرتی ہوئی نکل جاتی ہے جس جال سے ہم لیجر کا شکار کرتے ہیں اس کو گٹ کہا جاتا ہے بلوچی زبان میں گٹ کے معنی گھیرا کرنا دہرائے میں بند کرنا دوسرے الفاظوں میں چوکہ لگانا ہے کھلے سمندر میں یہ مچھلی گروپوں کی شکل میں چلتی ہے جس کو ہم گٹ کے ذریعے دہرائے کے درمیان میں گھیر کر شکار کرتے ہیں گٹ جال بلوچستان کے سمندری علاقوں میں مچھلی کی شکار میں استعمال کیا جاتا ہے کسی علاقے میں گٹ جال پلاسٹک سے بنایا جاتا ہے تو کسی جگہ پر گٹ جال ریشم کے دھاگے سے بنایا جاتا ہے جو کہ پلاسٹک سے تیار کیے گئے جال سے مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے جس کا شمار جدید ماہی گیری میں ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جب جدید ماہی گیری میں استعمال ہونے والی جالیں نسل کش اور سمندری حیات کےلیے تباہ کن ہیں تو پاکستان نیوی کی جانب سے س 60/65 سال قبل مچھلیوں کی شکار کےلیے استعمال کی جانے والی فرسودہ طرز ماہی گیری کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے جدید ماہی گیری کی کیوں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان جالوں کو متعارف کیا گیا صوبہ سندھ کے ماہی گیروں پر سندھ فشریز کی جانب سے کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے آزادی کے ساتھ وہ جدید طریقے سے ماہی گیری کرتے ہوئے جدید ماہی گیری کی جالیں استعمال کررہے ہیں مگر اس کے برعکس بلوچستان میں جدید ماہی گیری کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے فرسودہ ماہی گیری کا نظام رائج ہے جوکہ بلوچستان کے ماہی گیروں کی مالی خوشحالی اور ترقی کی راہوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اس وقت صرف تحصیل سونمیانی وندر کے ساحلی علاقے ڈام بندر میں ماہی گیری کے شعبے سے منسلک افراد نے 400 کروڑوں لگا کر جدید ماہی گیری کو متعارف کرانے کےلیے لگائے ہیں اگر اسی طرح ہر 6 کے سیزن کے شروع ہوتے ہی ان جدید ماہی گیروں کی جالوں کو نسل کش اور سمندری حیات کےلیے تباہ کن قرار دیکر ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جو کہ بلوچستان کے ماہی گیروں کی خوشحالی اور ان کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مترادف ہے جس کو ہم کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ہوشربا مہنگائی کے ساتھ ساتھ سیلابی صورتحال کے باعث لوگوں کو نان شبینہ سے محروم کر رکھا ہے زراعت کا شعبہ اور صنعتوں میں روزگار کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے اس وقت چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرنے میں جو شعبہ کام آرہا ہے وہ ہے ماہی گیری اب اگر اس پر بھی مختلف حیلے بہانوں سے قدغن لگائی جائے غریب بے روزگار لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو جائیں گی اپنے روزگار کے تحفظ کےلیے آج ہم سمندر سے نکل کر شاہراہوں پر آگئے ہیں ہم شوق سے نہیں آئے بلکہ ہمیں اس قدر مجبور کیا گیا ہے کہ ہم شاہراہوں پر نکل آئے ہیں عوام کی تکلیف اور مسافروں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اور محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر میرین و انچارج پٹرولنگ جلیل احمد بلوچ اور فشریز آفیسرز عمران بلوچ شکور احمد رونجہ جو فشریز بلوچستان کے ڈائریکٹر کی ہدایت پر ہمارے پاس مذاکرات کےلیے آئے اور انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کل یعنی آج مورخہ 20 اکتوبر کو ماہی گیروں کو درپیش مسئلے کو حل کیا جائے گا ان کی یقین دہانی پر ہم کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بند کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرتے ہیں۔ خطاب کرنے والوں میں مقامی معزز شخصیت میر شاہجہان جاموٹ، ایڈووکیٹ محمد حنیف رائیل، ماہی گیر رہنما جمیل احمد قریشی، محمد سلیم کاکانی، فیض محمد خاصخیلی، اور محمد اشرف بلوچ شامل تھے جبکہ بعدازاں ماہی گیر رہنما سیٹھ پرویز دودا نے میڈیا کو پریس بریفنگ دی جبکہ اس موقع پر حاجی محمد الیاسانی، حاجی کریم بخش الیاسانی، حاجی یونس راجپوت، ماما نواز خاصخیلی، وڈیرہ حنیف قاسوانی، حاجی طارق جاموٹ، حاجی اقبال محمودانی، رحیم خاصخیلی، و دیگر موجود تھے جبکہ ریلی میں شریک ماہی گیروں کی تعداد 10 ہزار کے لگ بھگ تھی ریلی کے شرکا کو سیکورٹی فراہم کرنے کےلیے وندر پولیس کے جوان پولیس موبائل کے ساتھ ریلی میں موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں