ایرانی فورسز کی فائرنگ سے 8 سالہ بلوچ بچی اور 32 سالہ غزالیہ جاں بحق

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں مہسا امینی کے قتل کے 40 روزہ تقریب میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ سیکورٹی فورسز کی طرف سے گاڑیوں کے راستے بند کردیے گئے تھے جس کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ساقیز قبرستان تک کا سارا راستہ پیدل طے کیا۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایرانی مظاہرین کا ایک بڑا ہجوم بدھ کے روز ساقز میں مہسا امینی کے قتل پر چالیس روزہ تقریب میں شریک ہے۔ مظاہروں کے دوران مغربی بلوچستان کے علاقے سراوان میں ایرانی فورسز کی فائرنگ گاڑی پر فائرنگ سے کمسن بلوچ بچی مونا نقیب جاں بحق ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق 24 اکتوبر کو مغربی بلوچستان کے علاقے سراوان میں ایرانی فورسز نے ایک گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 8 سالہ مونا نقیب بلوچ جاں بحق ہوگئی۔ ایک اور واقعے میں 32 سالہ غزالیہ چلبی نام ایک لڑکی اپنے موبائل فون سے احتجاج کی فلم بندی کر رہی تھی جو ایرانی فورسز کی طرف سے چلائی گئی سیدھی گولی سے جاں بحق ہوگئی۔ ایران میں جاری مظاہروں کے دوران مغربی بلوچستان کے علاقے زاہدان میں ایرانی فورسز بلوچ طلباء کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ زاہدان کے علاقے دوزپ میں صورتحال کافی کشیدہ ہے۔ ایرانی فوجی دستے سڑکوں پر پٹرولنگ کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں