علاقائی اخبارات کے سرکاری اشتہارات کی بندش کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد: علاقائی اخبارات کے سرکاری اشتہارات کی بندش پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ادائیگیوں اور صحافیوں کے معاشی قتل کے خلاف پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے باہر راولپنڈی، اسلام آباد روز جرنلسٹس ایسوسی ایشن (ربجا) کی کال پر ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے اور دیگر صحافی تنظیموں کی قیادت نے اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ علاقائی اخبارات کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ دور دراز کے علاقوں میں وہاں کے مسائل اجاگر کرنے اور مظلوم کی آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ نے کہا کہ میڈیا کو سازش کے تحت گلا گھونٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک بھر کے صحافی اس وقت مشکلات کا شکار ہیں، حکومت کو میڈیا کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صحافیوں کو بے روزگار ہونے سے بچانے کیلئے حکومت فوری طور پر اخبار اور اخباری کارکنوں کیلئے ایک پیکیج کا اعلان کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آگے کا لائحہ عمل زیادہ سخت ہوگا، احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آر آئی یوجے کے صدر عامر سجاد سید نے کہا کہ علاقائی اخبارات سے وابستہ کارکنوں کا چولہا جلانا مشکل ہوگیا، ربجا کے مطالبات منظور ہونے تک احتجاجی مظاہرے جاری رکھیں گے۔ ربجا کے بانی صدر قربان سنتی نے کہا کہ حکومت اخبارات کا جان بوجھ کر گلا گھونٹ رہی ہے، بلوچستان سے شائع ہونے والے اخبارات کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔ حکومت نے جو لسٹ بلوچستان کے حوالے سے ترتیب دیہے، اس میں بلوچستان میں بسنے والے بلوچ اور پشتون کا کوئی اخبار نہیں، حالانکہ بلوچستان کے 33اضلاع میں پڑھے جانے والے بڑے اخبارات کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ جو اس حکومت کا ظالمانہ اقدام ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس موقع پر ربجا کے صدر نثار احمد نے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز، معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقائی اخبارات کا کوٹہ فوری بحال کیا جائے اور اخبارات کے بقایا جات فوری ادا کئے جائیں تاکہ اس سے وابستہ ہزاروں میڈیا ورکر کا روزگار بچایا جاسکے۔ نثار احمد نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے والے تمام قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ مسئلہ فوری حل نہ ہوا تو احتجاج جاری رکھیں گے۔ آخر میں انہوں نے تمام ریجنل اور چھوٹے اخبارات کے مالکان سے اپیل کی کہ پورے پاکستان کے اخباری مالکان کو احتجاجی مظاہرے کیلئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ یہ سرکار جائز مطالبات ماننے کو تیار نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں