پولیس افسران اور جوانوں نے خون کی قربانی دے کر صوبے میں امن قائم کیا، آئی جی بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے کہا ہے کہ پولیس کے افسران اور جوانوں نے اپنے خون کی قربانی دیتے ہوئے صوبے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا ہے پولیس نے کم وسائل اور افرادی قوت کے باوجود محکمے کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نبرد آزما ہوتے ہوئے عوام کے تحفظ کےلئے اپنے فرائض کی ادائیگی کو ممکن بنایا ہے نئے پاس آﺅٹ ہونے والے ریکروٹس پولیس کا حصہ بن کر عوام اور صوبے کی خدمت کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے 96 ویں پاسنگ آﺅٹ پریڈ کے موقع پر پولیس ٹریننگ کالج سریاب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی و کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری چوہدری سلیمان اور کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج ڈاکٹر فرحان زاہد ، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر ، اے آئی جی آئی ٹی ارسلا سلیم ، ایس ایس پی ایڈمن محمد بلوچ ، ایس پی سریاب ڈویژن شعیب مسعود ، ایس پی قائد ڈویژن نظام الدین ، ایس پی انویسٹی گیشن صدر نصیر شاہ سمیت دیگر پولیس آفیسران بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس کا پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے نئے ریکروٹس فرائض منصبی ایمانداری سے ادا کریں جو یونیفارم زیب تن کی ہے اس کے تقدس کو کبھی پامال نہیں ہونے دیں پولیس ٹریننگ کالج ایک عبادت گاہ کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ یہاں پر پولیس کے مقدس پیشے سے وابستہ آفیسران اور جوان تربیت حاصل کرتے ہیں اور وہ عوام کی خدمت کو ممکن بناتے ہوئے امن میں خلل پیدا کرنے والے عناصر کے لئے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتے ہیں پولیس محکمہ پولیس کا کردار اور کارکردگی کی اہمیت ماضی کی نسبت زیادہ بڑھ گئی ہے اور محکمے کو درپیش اندرونی ، بیرونی چیلنجز کی نوعیت بھی مختلف ہے مجھے احساس ہے کہ عوام کے تحفظ کے لئے دی جانے والی ذمہ داریوں کی وجہ سے کٹھن حالات میں کام کرنے پڑتے ہیں جس سے ہمارے آفیسران اور جوانوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں ہمیں اپنی شخصیت، جذبات، احساسات، رویوں اور خامیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہ رہنے کی ضرورت ہے بلوچستان پولیس کے بہادر آفیسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے 750 آفیسران اور جوانوں نے فرائض کی بجا آوری میں شہادت کا رتبہ پایا ہے آپ بلوچستان پولیس کے ناموس کی علامت ہے آپ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں پولیس تھانوں، پولیس لائنوں میں واپس جاکر اپنے آفیسران کی زیر کمان فولادی عزم سے دہشت گردوں، اغواءکاروں، ظالموں ، خون نا حق بہانے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرکے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ ریاست کی طاقت سے بڑھ کر اللہ کی نصرت آپ کے ساتھ ہے دشمن قوتوں کے مذموم ارادوں کو شکست دینی ہے اور لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کے جان و مال کا محافظ بننا ہے ہم نے جو تربیت حاصل کی ہے یہ فرائض کے دوران کارگر ثابت ہوگی انہوں نے کہا کہ اس تقریب اور آپ کی پاسنگ آﺅٹ کا سہرا کمانڈنٹ پی ٹی سی اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے انہوں نے سپاسنامے میں جو مسائل بتائے ہیں ان کے حل کے لئے محکمانہ طور پر اور حکومت کے توسط سے کام کرکے مسائل کے حل کو ممکن بناﺅں گا اس موقع پر انہوں نے تربیت کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 8 پوزیشن ہولڈر میل اور فی میل اہلکاروں کو انعامات بھی دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں