مخلص قیادت کے انتخاب میں ہی کالج پروفیسرز کی بقا ہے، بی پی ایل اے یکجہتی پینل
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن یکجہتی پینل کے نامزد امیدوار برائے صدارت پروفیسر طارق بلوچ، جنرل سیکرٹری رازق الفت، پروفیسر حمید خان، پروفیسر غفور سومرو و دیگر کا انتخابی مہم کے سلسلے سبی بوائز و گرلز، بھاگ بوائز، ڈیرہ مراد جمالی بوائز و گرلز، ڈیرہ اللہ یار، صحبت پور بوائز گرلز، حیر دین، پھنور، جھل مگسی اور اوستہ محمد بوائز و گرلز کالجز کا دورہ کیا۔ قائدین نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے برادری کو متنبہ کیا ہے کہ ان کے پاس ایک بار پھر طالع آزما اور بلیک میلنگ کی سیاست کرنے والے عناصر کو رد کرنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ راز تو سب پر عیاں ہے کہ یہ عناصر جھوٹ اور مغالطوں میں اپنی زندگیاں صرف کرچکے ہیں، لہٰذا ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ یہ بہتان تراشی نہیں بلکہ ان کے دو سالہ سیاہ دور جس اذیت سے کالج مرد و خواتین پروفیسروں کو جس اذیت سے گزرنا پڑا وہ سب کو یاد ہے یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ برادری نے یہ بخوبی سمجھ لیا ہے کہ ان کے پاس یکجہتی کے سوا دوسرا بہترین آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا یکجہتی پینل نے بی پی ایل اے کی شاندار تاریخ میں اب تک کی کامیاب کابینہ چلا کر یہ ثابت کردیا کہ کامیابی صرف اور صرف اخلاص اور بے لوث خدمت ہی مل سکتی ہے۔ نامزد صدر پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ حالیہ سابقہ کابینہ نے چارٹر آف ڈیمانڈ کی ڈیپارٹمنٹ سے منٹس کا حصہ بنوا کر جس طریقے سے اپنے وڑن اور مشن کو واضح کیا ہے اسی طرح بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی کے ہونے والے انتخابات میں جیتنے کے فوری بعد یکجہتی کے رہنما بہتر سے بہتر کی پالیسی کو اپناتے ہوئے اجتماعی مشاورت اور برادری کے تعاون سے عزت و وقار کے ساتھ کامیابیوں کے مزید جھنڈے گاڑیں گے۔ یکجہتی پینل کے نامزد جنرل سیکرٹری پروفیسر عبدالرازق الفت نے کہا کہ یکجہتی کی کارکردگی روز روشن کی طرح عیاں ہے ہم بخوبی جانتے ہیں حقوق و فرائض کے توازن کو برقرار رکھ کر کس طرح سے برادری کے اجتماعی مفادات کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ پروفیسر عبدالرازق الفت نے کہا کہ کوئٹہ کی سڑکیں اور ریڈ زون کے چوراہے گواہ ہیں کہ بی پی ایل اے کی قیادت کرنے والا یکجہتی پینل حقوق کی جنگ میں کسی بھی لمحے پسپا نہیں ہوا نہ ان کو دبایا جاسکا۔ پروفیسر رازق الفت نے کہا کہ مخالفین بغض اور تنگ نظری کی وجہ سے بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے 30 سالہ دور کو بالعموم اور یکجہتی پینل کی ایک کامیاب کابینہ کی کارکردگی کو بالخصوص یکسر رد کرکے کالج پروفیسرز جیسے باشعور طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یکجہتی کے نامزد جنرل سیکرٹری پروفیسر رازق الفت نے کہا کہ پروفیسرز گیسٹ ہاؤس، پروفیسرز ہاؤسنگ اسکیم، ڈی آر اے، ریسرچ اینڈ پبلی کیشن گرانٹ سمیت بی ایس فنانشل پیکیج کے لیے ورکنگ پیپر، لائبریرین سروس اسٹرکچر اور 2019 کے بعد تعینات ہونے والوں کے لیے ٹائم اسکیل پروموشن کی مراعات کو ختم کرنے پر بحالی کی سمری سمیت بینولنٹ فنڈ سمیت سولہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں کامیاب پیش رفت کو ان کامیابیوں سے تعبیر کیا کہ جن کے لیے برادری اجتماعی طور پر شریک رہی ہے۔ امید ہے کہ اس بار بھی بلوچستان کے کالجز کے تمام اساتذہ کسی بھی قسم کی مصلحت سے بالاتر ہوکر ایک بار پھر منتخب کرکے پروفیسر طارق بلوچ جیسے ممتاز ماہر تعلیم اور انتھک رہنما کو اپنا قائد بنائیں گے اور اپنی ترقی اور بقا کی ضمانت خود ہی فراہم کریں گے۔


