پاک ایران سرحدکی بندش کیخلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرہ

تفتان(انتخاب نیوز)پاک ایران سرحدی شہر تفتان میں بازارچہ گیٹ کی بندش کیخلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا تفصیلات کے مطابق آل پارٹیز و سیاسی پینلز، قبائلی معتبرین کی سربراہی میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا ریلی کلی اسٹیشن سے برآمد ہوا اور بازار کے مختلف شاہراہوں سے گزرتا ہوا مین چورنگی میں اجتماع کی صورت اختیار کر گیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز کے رہنماں مولانا نجیب اللہ محمد حسنی، نو منتخب کونسلر محمد آصف برہانزئی، حاجی شوکت علی عیسی زئی اور نومنتخب کونسلر میر بلال محمد حسنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو سال سے تجارتی گیٹ بازار چہ کو بغیر کسی بہانے کے بند کر دیا گیا ہے حالانکہ وزیر اعظم پاکستان کے واضح احکامات ہیں کہ وہ سرحدی علاقوں میں دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں کو تیز کریں گے مگر افسوس تفتان میں سرحدی علاقے کے لوگوں پر تجارتی سرگرمیوں کو محدود کیا جارہا ہے جس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ شروع میں جگہ تنگ ہونیکا بہانہ بنا کر بازار چہ کو بند کر دیا گیا تھا لیکن عوامی ردعمل کے بعد ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے بازار چہ کے لیے بڑی زمین الاٹ کی جس کا معائنہ ایف بی آر کے چیئرمین سمیت چیمبر آف کامرس و دیگر نے کیا کام شروع ہوا اور اب چھ مہینے سے بازار چہ پر کام مکمل ہو چکا ہے مگر تاحال اسے تجارتی سرگرمیوں کے لیے بحال نہیں کیا گیا ہے جو کہ سرحدی لوگوں کے ساتھ ناانصافی تصور کیا جاتا ہے انہوں نے بالا حکام کو تنبیہ کرتے ہوئے مزید یہ کہا کہ اگر 21’نومبر تک بازار چہ کو بحال نہ کیا گیا تو 23 نومبر کو احتجاجی ریلی نکالی جائے گی اور اس میں بازار چہ کھلنے تک اجتجاجی شیڈول جاری کیا گیا 27 نومبر کو تفتان میں مکمل شٹر ڈان ہڑتال ہوگی بعد ازاں اگر بازار چہ کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوا تو پاک ایران ٹرانزٹ گیٹ کو بند کر دیا جائے گا اور غیر معینہ مدت تک دھرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں