38 سال سے محمود خان کا احترام کیا، مرکزی کمیٹی کے 70 ممبران نے چیئرمین کے اختیارات سلب کردیے، نصر اللہ زیرے

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخوا میپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے کا چیئرمین پشتونخوا میپ کی پریس کانفرنس کے بعد اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین محمود خان اچکزئی کا احترام کرتے ہیں، انہوں نے پارٹی آئین سے ہٹ کر فیصلے کیے، ہمارے پاس 70 ممبران نے دستخط کیے اور چیئرمین محمود خان اچکزئی کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔ آنے والی قومی کانفرنس تک ان کے اختیارات سلب کیے گئے ہیں۔ 27 اور 28 دسمبر کو قومی کانفرنس میں ملک میں جمہوریت کا مطالبہ کیا جائے، ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ کیا جائے، پارٹی کے اندر جمہوریت کا گلا دبوچنے والوں کو پکڑا جائے۔ پارٹی میں جو نیٹ ورک چلا رہے تھے، جو پیمنٹ کررہے تھے جنہوں نے خود میٹنگ میں خود تسلیم کیا کہ ہم نے انہیں پیسے دیے انہیں موبائل خرید کر دیے کہ آپ عثمان کاکڑ کی شان میں گستاخی کریں جو پارٹی کے آئین سے متصادم ہے،انہیں اختیار نہیں کہ وہ کسی کو پارٹی سے نکالیں ہم سب کا احترام کرتے ہیں، ہم نے 38 سال محمود خان کا احترام کیا، اب بھی ان کا اور ان کے خاندان کا احترام کرتے رہیں گے، وہ میٹنگ میں گستاخی کرتے تھے، آج ان کے آس پاس وہ لوگ بیٹھے تھے جو ان کو بھڑکاتے ہیں۔ ہم یکطرفہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ہم کسی طوفان بدتمیزی کا حصہ نہیں بنیں گے، سوشل میڈیا پر کسی کیخلاف غلط الفاظ استعمال نہیں کریں گے۔ ہمارے دوستوں کیخلاف سوشل میڈیا پر جو پروپیگنڈے کیے جارہے ہیں، لوگوں کی کردار کشی کی جارہی ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی گزشتہ 10 سال سے پارٹی کے اندر جمہوری روایات کو پامال کیا جارہا تھا، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا مطالبہ کیا جائے اور پارٹی میں اس جمہوریت کا گلا دبوچا جائے۔ مرکزی سیکرٹری جنرل نے میاں خان یوسفزئی نے محمود خان اچکزئی کو 9 نومبر کو خط کے ذریعے مطالبہ کیا کہ مرکزی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے، پارٹی بیانیے پر اعتراضات ہیں، لیکن ایک ماہ کے گزرنے کے باوجود اجلاس نہیں بلایا گیا۔ سیکرٹری جنرل نے جو اجلاس بلایا تھا اس میں 70 ممبران کے دستخط موجود ہیں۔ دو روزہ اجلاس میں 70 اراکین یوسف خان کاکڑ کی رہائش گاہ پر چیئرمین صاحب کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دے کر ان کے اختیارات کو سلب کیا۔جب تک رہنما اداروں کا انتخاب نہیں ہوتا مرکزی کمیٹی نے چیئر مین سمیت پارٹی کے آئین سے متصادم اختیارات کو سلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں