نوکنڈی بنیادی سہولیات سے محروم، گرلز اسکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے، عوامی حلقے

نوکنڈی (انتخاب نیوز) بلوچستان کے علاقہ نوکنڈی تحصیل جہاں سیندک ریکوڈک ودیگر معدنی وسائل کی وجہ سے اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے، دوسری جانب افغانستان وایران کے بارڈرز کی وجہ سے جغرافیائی اہمیت بھی رکھتا ہے مگر ان تمام کے باوجود یہ بدقسمت تحصیل تمام بنیادی سہولیات سے محروم اور یہاں کے نوجوانوں کی اکثریت بیروزگاری کا شکار ہے، تعلیمی حوالے سے مسائل بے شمار موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار تحصیل نوکنڈی کے عوامی حلقوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل نوکنڈی میں کئی پرائمری اسکول ہیں جوکہ تعلیم کے تمام تربنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ کلی مینگل آباد میں موجود پرائمری اسکول کے ڈیڑھ سو سے زائد بچے اور بچیاں وہاں پڑھ رہے ہیں مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ صرف ایک ٹیچر اور دو کلاس رومز ڈیڑھ سو طلباء وطالبات کو صحیح معنوں میں تعلیم حاصل کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہورہی اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اسکول کو چار دیواری تک نہیں جس کی وجہ سے ٹیچر کو نیم قبائلی معاشرے میں پڑھانے میں مشکلات درپیش رہتی ہیں، کلی مینگل آباد اسکول جہاں گرلز اسکول نہ ہونے کی وجہ سے سوسے زائد بچیاں گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں، بوائز اسکول میں پڑھنے کے لئے قبائلی رسم و رواج رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، وہیں اسکول میں ٹیچرز کی کمی کی وجہ سے اسکول میں مزید داخلہ بھی نہیں کرائے جاسکتے اس لئے تعلیمی ترقی کے دعویدار صوبائی حکومت محکمہ تعلیم کو تحصیل نوکنڈی کلی مینگل آباد بوائز اسکول کو مکمل چاردیواری اور اضافی کمروں کے ساتھ ٹوائلٹس کی منظوری کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور اس اسکول میں فوری طور پر تین تاچار دیگر ٹیچرزکی تعیناتی عمل میں آنا چاہیے تاکہ یہاں کے بچے بھی تعلیمی میدان میں جدید دور کے مطابق تیار ہوسکیں، کلی مینگل آباد میں گرلز اسکول کا قیام جلد سے جلد لایا جائے تاکہ یہاں کے بچیاں بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہوسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں