بارکھان کے لوگ سرداری نظام سے اکتا چکے ہیں، ظالمانہ نظام سے نجات دلائیں گے، نیشنل پارٹی

بارکھان (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کو پھر سے دانستہ طور پر بے امنی کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ اربوں روپے بجٹ ملنے کے باوجود بارکھان کے لوگ اچھے اسکول، ہسپتال اور سڑکوں سے محروم ہیں۔ بارکھان کے لوگ سرداری نظام سے اکتا چکے ہیں، نیشنل پارٹی انہیں اس ظالمانہ نظام سے نجات دلائے گی۔ چوری ڈکیتی کا سلسلہ نہ رکا اور بھرتیوں میں میرٹ کو پامال کرنے کی پالیسی کو جاری رکھا تو رکھنی کے مقام پر شاہراہ پر دھرنا دیکر بند کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری و ترجمان اسلم بلوچ ممبران مرکزی کمیٹی میر کریم کھیتران یونس بلوچ صوبائی ترجمان علی احمد لانگو ممبر ورکنگ کمیٹی صدیق کھیتران حاجی عبداللہ جان حسنی اور تاج محمد نے بارکھان میں نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بے امنی چوری و ڈکیتی انتظامیہ کی بیڈگورننس اور کرپشن کو کمیشن کے خلاف عظیم الشان احتجاجی مظاہرے و جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی مظاہرہ بارکھان بازار سے ریلی کی شکل میں گزرتے ہوئے ہسپتال چوک میں جلسہ کی شکل اختیار کرگئی۔ مظاہرین نے انتظامیہ کے ناقص کارکردگی اور سرداری نظام کیخلاف بھرپور نعرے بازی کی۔ نیشنل پارٹی کے قائدین نے کہا کہ بارکھان کے عوام نے 2018ء کے انتخابات میں مخصوص و غیر جمہوری عناصر کے ٹھپہ ماری کے باوجود بھرپور مینڈیٹ فراہم کرتے ہوئے کامیاب کرایا لیکن پھر بھی عوام کی ووٹ کی طاقت پر قدغن لگاتے ہوئے برسا برس سے مسلط نام نہاد نمائندے کو لایا گیا جس کی بدولت پھر سے بارکھان میں بے امنی لوٹ کھسوٹ، چوری ڈکیتی، کرپشن اور اداروں کو مفلوج بنانا شروع ہوگیا۔ رہنماؤں نے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ عوام کی خدمت کیلیے ہوتی ہے لیکن افسوس کہ بارکھان میں انتظامیہ و پولیس و لیویز نام نہاد نمائندے کے کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔ نیشنل پارٹی انتظامیہ کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی و رویہ کو بہتر کریں ورنہ نیشنل پارٹی مکمل احتجاجی تحریک شروع کریگی۔ رہنماؤں نے کہا کہ بارکھان دنیا جدید دور میں داخل ہوچکی ہے لیکن بلوچستان میں عوام کے ووٹ کی طاقت کو چوری کرکے انگریز کے بنائے گئے سرداری نظام کے عناصر کو دھاندلی سے مسلط کیا جاتا ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ افسوس ہے کہ بارکھان میں معیاری اسکول و کالج نہیں، ہسپتال میں ادویات و ڈاکٹر نہیں۔ عوام صحت و تعلیم دونوں سے محروم ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ رکھنی بارکھان سڑک گزشتہ تین سال کرپشن کی وجہ سے نہیں بن پائی۔ مسلط شدہ نمائندے مال غنیمت سمجھ کر کمیشن لے رہے ہیں جو کہ مکمل طور پر قابل مذمت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے 2013ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے بلوچستان میں تعمیری گورننس کی مثال قائم کی۔ بلوچستان کے گمبھیر حالات کو سیاسی بصیرت سے بہتر کیا اور عوام کو تحفظ فراہم کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ نیشنل پارٹی آئندہ بارکھان سمیت پورے صوبے کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی اور بلوچستان میں عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی ضروریات کو فراہم کریگی اور بلوچستان کے عوام کو خوشحالی کو ممکن بنائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں