بارشوں سے ہرنائی کھوسٹ سیکشن پر 91 پلوں کو نقصان پہنچا، آب گم پل کا کام مارچ میں مکمل ہوگا، ریلوے حکام

کوئٹہ (انتخاب نیوز) ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے فرید احمد اور ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور کے سنیئر آفیسر سید حسن طاہر بخاری نے کہا ہے کہ مچھ آب گم پل کا تعمیراتی کام ماہ فروری یا مارچ میں مکمل کرلیا جائے گا۔ طوفانی بارشوں سے ہرنائی کھوسٹ سیکشن پر 91 پلوں کو نقصان پہنچا ہے جن کی مرمت کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،ہیرک پل کی تعمیر کے بعد کوئٹہ تفتان ریلوے ٹریک کی آپ گریڈیشن شروع کی جائے گی،بلوچستان کے صنعت و تجارت اور درآمدی و برآمدی شعبوں سے وابستہ افراد گڈز ٹرینوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ریلوے کو بزنس دیں۔فریٹ ریٹ و دیگر امور سے متعلق چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران اور ریلوے حکام پر مشتمل کمیٹی بنائی جا رہی ہے تاکہ معاملات پر باہم گفت و شنید ممکن ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی عبداللہ اچکزئی،سنیئر نائب صدر حاجی آغا گل خلجی،نائب صدر سید عبدالاحد آغا نے ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ ریلوے کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بلوچستان سے ملک کے مختلف شہروں تک دس ٹرینیں چلتی تھی مگر بعد ازاں حکومت اور ریلوے حکام کی عدم توجہی کے باعث ان کی تعداد کم ہو کر تین رہ گئی جن کا سلسلہ حالیہ طوفانی بارشوں میں مچھ ریلوے پل کے ٹوٹنے سے ختم ہو چکا ہے یہی نہیں چمن پیسنجر بھی اب ہفتہ وار دو دن تک محدود ہو چکی ہیں جس کی یومیہ بنیادوں پر بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کوئٹہ تفتان ٹریک کی حالت زار بہتر بنانے تک تفتان زاہدان ریلوے کو یومیہ بنیادوں پر چلانے کا مطالبہ کیا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران نے مچھ آب گم ریلوے پل کی جنگی بنیادوں پر تعمیر کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ بلوچستان کی عوام کو سستے اور معیاری سفر اور سامان کی نقل و حمل کی سہولت کیلئے صوبے میں ریلوے نظام کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہاں سے ایران، ترکی اور وسطی ایشائی ریاستوں تک بذریعہ ریلوے سفری اور تجارتی سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔ڈی ایس ریلوے فرید احمد اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور کے سنیئر آفیسر سید حسن طاہر بخاری کا کہنا تھا مچھ آب گم میں پل کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے جسے فروری یا مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹرینیں چلانے سے کوئی اختلاف نہیں البتہ ٹرینیں چلانے کا سلسلہ وہاں برقرار رہتا ہے جہاں سے بزنس اور منافع ملے انہوں نے بتایا کہ آج مچھ سے روانہ ہونے والیجعفر ایکسپریس میں 76 فیصد سیٹوں کی بکنگ تھی جس میں مزید بھی بہتری آئے گی پل ٹوٹنے کی وجہ سے مچھ تک مسافروں کو بسوں میں پہنچایا جاتا ہے اور پھر انہیں ریلوے کے ذریعے روانہ کر دیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ سبی کھوسٹ سیکشن پر ہرنائی تک 25پلوں اور 9اسٹیشنز کو بحال کر دیا گیا تھا مگر حالیہ بارشوں کے باعث زردآلو تک 91 پل تباہ ہو چکے ہیں اس سیکشن کی بحالی ہماری ترجیحات میں شامل ہے اس کے ٹینڈرنگ کا مرحلہ مکمل ہو چکا جس پر جلد کام مکمل کرنے کیلئے ڈی ایس کو ہدایت کی گئی ہے جو ایک مشکل ٹاسک ہے،انہوں نے کہا کہ کوئٹہ تفتان ٹریک پر ہیرک پل کی تعمیر کے بعد اپ گریڈیشن کا کام شروع کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں آنے کا مقصد صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کو گڈز ٹرینوں سے استفادہ کرنے اور بزنس دینے کی استدعا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ مال بردار ویگنوں کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے ڈھائی سو سے 260ویگنوں کو ڈی ایس کوئٹہ کو ڈسپوزل پر کیا جا رہا ہے یہ ٹرینیں کوئٹہ زاہدان آپریشن کے لئے استعمال ہوں گی انہیں واپس نہیں کیا جائے گا ڈی ایس ریلوے کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے کے تحت گوادر سپیرزنڈ ریلوے لائن کی فیزیبلٹی رپورٹ 2004 میں مکمل ہو گئی تھی اس کے فیز ٹو پر کام شروع کیا جائے گا بلکہ اسے بسیمہ،خضدار اور جیکب آباد کے راستے ایم ایل 2سے منسلک کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ریلوے فریٹ چارجز و دیگر کیلئے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے ممبران اور ریلوے حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو فریٹ ریٹس و دیگر امور بارے معاملات کو دیکھیں گے ریلوے چارجز ہمیشہ سڑک سے کم ہوتی ہے اگر پھر بھی اس سلسلے میں ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ اسے کمیٹی کے سامنے اسے رکھیں آخر میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی عبداللہ اچکزئی نے ڈی ایس ریلوے کو یادگاری شیلڈ پیش کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں