بلدیاتی انتخابات میں ہماری فتح کیخلاف سیاسی مخالفین ضلعی انتظامیہ کیساتھ مل کر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، میر ظفر اللہ زہری

خضدار (انتخاب نیوز) جمعیت علماء اسلام کے رہنماء سابق وزیر داخلہ بلوچستان میر ظفراللہ خان زہری، جے یو آئی ضلع سوراب کے امیر مولانا عبدالرحمن ساسولی، سردار سلطان محمد حسنی نے قبائلی عمائدین، منتخب کونسلران و جے یوآئی کے کارکنوں کے ہمراہ زہری ہاؤس خضدار میں پرہجوم ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع سوراب میں حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ہمارے سیاسی مخالفین ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر علاقے کے پرامن ماحول کو دانستہ طور پر خراب کررہے ہیں، سیاسی مخالفین سیاسی و جمہوری طریقے سے ہمارا مقابلہ کریں، بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے مخصوص نشستوں کے الیکشن میں ضلع سوراب میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جمعیت علماء اسلام کے منتخب بلدیاتی کونسلروں کو مختلف ہتھکنڈوں سے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے اور مخالفین ضلعی انتظامیہ کی مدد سے ہماری جیت کو شکست میں بدلنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں، سوراب انتظامیہ مکمل جانبداری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی الیکشن کمیشن بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے حکومت صورتحال کا فوری نوٹس لیکر جھالاوان کو کشت و خون سے بچائے۔ جے یوآئی کے مرکزی رہنما سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ میں ضلع سوراب کے عوام کا انتہائی مشکور ہوں کہ میں جب عملی طور پر سیاست میں آیا تو انہوں نے مجھے گھر بیٹھے الیکشن میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیکر کامیاب بنایا جس کے بدلے میں سوراب کے عوام کی میں نے بے لوث خدمت کی، نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار دیئے، سوراب میں ترقیاتی کام شروع کیے، میری کارکردگی کا آج بھی سوراب کے عوام معترف ہوکر ہرفورم پر گواہی دے رہے ہیں، مگر 2018ء کے الیکشن میں مخالفین نادیدہ قوتوں کے ساتھ ملکر میری یقینی جیت کو شکست میں تبدیل کروادیا لیکن مخالفین نے عوام کی خدمت و روزگار دینے کے بجائے سوراب کو انتہائی پسماندہ رکھا، جس کے نتیجے میں اب سوراب کے عوام نے حالیہ بلدیاتی الیکشن میں انہیں یکسر مسترد کرکے ایک مرتبہ پھر مجھ پر اور میری جماعت پر اعتماد کا اظہار کیا، جس کے تحت ڈسٹرکٹ و میونسپل کمیٹی میں بھاری اکثریت سے کامیابی ملی، مگر ہماری یہ کامیابی مخالفین کو ہضم نہیں ہورہی، اب ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر ہمارا سیاسی راستہ روکنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں اور بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں سوراب انتظامیہ کے ساتھ ملکر پہلے مرحلے میں ہمارے ٹکٹ یافتہ اقلیتی کونسلر کو ڈرایا دھمکایا اور میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر کے ذریعے ان کے مختلف رشتہ داروں کی تنخواہیں بند کروا کے انہیں دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا، اب ہمیں خدشہ ہے کہ ہمارے مزید کونسلروں کو اغواء کیا جائے گا اورہم نے اپنے خدشات اور سوراب ضلعی انتظامیہ کی نااہلی و جانبداری سے متعلق کمشنر قلات ڈویژن و حکام کو بروقت اطلاع کردی ہے۔ میر ظفراللہ خان زہری نے پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ مخالفین ضلعی انتظامیہ کا سہارا لیے بغیر کارکردگی کی بنیاد پر سیاسی میدان میں ہمارا مقابلہ کریں، سوراب کے عوام کے دل آج بھی میرے ساتھ ہیں، مخالفین غیر قانونی ہتھکنڈوں کو چھوڑ کر سیاسی عمل کا حصہ بنیں، جھالاوان کے سیاست کو پراگندہ نہ کریں، ہم ان کے لئے سیاست کا میدان کبھی بھی کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام تر صورتحال کے متعلق ہم نے پارٹی کے حکام و چیف سیکرٹری کو آگاہ کیا ہے کہ وہ سوراب انتظامیہ عوام کی جانبداری کو روک کر الیکشن کے عمل کو شفاف بنائیں، بصورت دیگر ہم احتجاج سمیت شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کرکے الیکشن کمیشن آفس کا گھیراؤ کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں