ریکوڈک معاہدے کے معاملے کو سیاست سے ہٹ کر پاکستان کی مفاد میں دیکھنا چاہیے،بی اے پی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سید حسنین ہاشمی نے کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدے کے معاملے کو سیاست سے ہٹ کر بلوچستان اور ملکی مفاد میں دیکھنا چاہیے،بلوچستان اور ملک کے مستقبل کی خاطر کی گئی قانون سازی کو متنازعہ نہ بنایا جائے، بی اے پی بلوچستان کے عوام کے مفادات اور حقوق کو کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریگی۔یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ سید حسنین ہاشمی نے کہا کہ ریکوڈک سے بلوچستان اور پاکستان کا معاشی اور سماجی مستقبل وابستہ ہے،بی اے پی کے مرکزی صدر وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہر مرحلے پر تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین کو اعتماد میں لیکر فیصلے کئے ہیں ریکوڈک معاہدے میں تمام رہنماؤں کی آراء اور مشاورت کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کے فوائد آنے والی نسلوں اور بلوچستان کی ترقی کے لئے اہم ہیں صوبائی حکومت نے صوبائی خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی کریگی بلوچستان کو اس کے ٹیکسز ملیں گے صرف وفاقی حکومت نے اپنے ٹیکسز پر استثنی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے ریکوڈک کے حوالے سے جلد فیصلہ نہ کرنے کے منفی نتائج کا پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا تمام سیاسی قائدین افہام وتفہیم اور ملکی سلامتی کو زیر غور رکھتے ہوئے فیصلے کریں ریکوڈک منصوبے کو متنازعہ بنانے سے آئندہ نسلوں کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے تمام سیاسی قائدین کو ساتھ لیکر مشاورت سے فیصلے کرنے کا عمل خوش آئند ہے یہ عمل صوبے میں اعتماد کی فضاء کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کریگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں