بلوچستان کی ربڑ اسٹمپ اسمبلی ریکوڈک کی فروخت میں ملوث ہے، بند کمروں میں کیے فیصلے قبول نہیں، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سابق وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے ریکوڈک سے متعلق قانون سازی کو بلوچستان کا معاشی قتل اور 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا بلوچستان کی ربڑ اسٹمپ اسمبلی کے قیام کے وقت جن خدشات کا اظہار ہم نے کیا تھا وہ آج سچ ثابت ہورہے ہیں،بدقسمتی سے جو لوگ بڑے دعوے کررہے تھے وہ بھی ریکوڈک کی فروخت میں ملوث ہیں، بند کمرے میں ریکوڈک کے مستقبل کا فیصلہ کیا گیا اور پھر اسمبلی سے بل پاس کرکے اختیار وفاق کے حوالے کرکے بلوچستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ قدوس بزنجو کو لانے والوں اور پارلیمنٹ کی بدنیتی واضح ہوچکی کہ بلوچستان کے حوالے سے بڑی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے 18ویں ترمیم کی خالق جماعت پیپلز پارٹی کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سے اسے اقدام کی امید نہیں تھی بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل اور وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے جس کی ضمانت آئین پاکستان نے دی ہے ایسے کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے جو ہمارے عوام کے استحصال پر مبنی ہو، بلوچستان کے وسائل ہڑپ کرنے کے لئے اسے بند گلی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے سے مشرف کی لگائی گئی آگ میں برسوں سے جل رہا ہے وسائل پر قبضہ گیری کے لئے اس طرح کی قانون سازی قومی استحکام نہیں بلکہ مزید مسائل کا باعث بنے گی۔ نیشنل پارٹی اس طرح کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتی ہے۔ سینیٹ میں سب سے نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر طاہر بزنجو نے جرات مندانہ موقف اپنا کر اس کو مسترد کیا ہر فورم پر بلوچستان کے ساحل و وسائل اور عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے رضا ربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سینیٹ میں حق کا ساتھ دیا جس کو نیشنل پارٹی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے اختیارات کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کرے گی قانون سازی کو واپس نہ کیا گیا تو سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگی،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ جلد پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو تحفظات سے آگاہ کریں گے اگر ازالہ نہ ہوا تو اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔


