پاکستان میں قانون طاقتور نہیں، جنرل (ر) باجوہ نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا، فوج کو نیوٹرل رہنا چاہیے، اسد عمر

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سابق وفاقی اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو سوالیہ نشان بنا دیا گیا ہے۔ (ر) جنرل باجوہ کی جانب سے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا گیا، پرویز الٰہی کی اپنی جماعت اور پالیسی ہے، ہم صرف ان کے اتحادی ہیں، فوج کو نیوٹرل رہنا چاہیے، ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری ہونی چاہیے۔ ملک میں رول آف لاکلیدی سوال ہے حالانکہ بانی پاکستان کی حکمرانی پر یقین رکھتے تھے اور پاکستان کی تشکیل ایک وکیل نے جمہوری عمل کے ذریعے کی حقیقی جمہوریت کے بغیر قیام پاکستان کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ روز اول سے ہی جمہوریت کی راہ میں عدالتوں سمیت ہر موقع پر رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں۔ پی ٹی آئی نے بلوچستان کو تاریخی منصوبے دیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو بلوچستان ہائیکورٹ بار سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اور سینئر وکلا اور عہدیدار بھی موجود تھے۔ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں رول آف لا کلیدی سوال ہے۔ رانا ثنااللہ سمیت مسلم لیگ ن کے رہنماؤ ں پر مقدمات تحریک انصاف کے دور سے پہلے کے ہیں پرویز الٰہی کی اپنی جماعت اور پالیسی ہے۔ جنرل (ر) باجوہ نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا۔ ملک بھر میں قانون کی حکمرانی کو سوالیہ نشان بنا دیا گیا ہے حالانکہ بانی پاکستان قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے تھے، پاکستان کی تشکیل ایک وکیل نے جمہوری عمل کے ذریعے حقیقی جمہوریت کے بغیر قیام پاکستان کا مقصد ادھورا رہ جاتاہے۔ قیام پاکستان سے ہی جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور جمہوریت کی راہ میں عدلیہ کے ذریعے بھی رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں آزاد عدلیہ کی تحریک کو وکلا نے منظم انداز میں چلایا لیکن عدلیہ کی آزادی کے وہ نتائج برآمد نہ ہوسکے جس کی توقع تھی وکلا تحریک کے بعد کچھ بہتری آئی پاکستان میں آج بھی قانون سب کیلئے برابر نہیں طاقتور پرقانون کا اطلاق نہیں ہورہابلوچستان میں قانون کی حکمرانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تحریک انصاف کی حکومت نے بلوچستان کو تاریخی منصوبے دیئے ملک میں سچ کا سامنا کرنے کا خوف ختم کرنے کی ضرورت ہے طاقت سے سچائی کوچھپانے کا دور ختم ہوچکا ہے آئین کی بالادستی قائم نہ کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی کوئٹہ میں رول آف لاکانفرس کا اعلان خوش آئند اقدام ہے قانون کی حکمرانی کیلئے کوئٹہ کے وکلا کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔مسلم لیگ کے رہنماو ں پر مقدمات پی ٹی آئی کے دور حکومت سے پہلے کے ہیں نیب کے مقدمات بھی ان پرپاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بنائے گئے تھے پی ٹی آئی کے رہنماو ں پر ہر روز مقدمات بنائے جارہے ہیں اور انھیں ہراساں کیاجارہاہے سینیٹر اعظم سواتی پر درج مقدمات ان کی زندہ مثال ہے پاکستان میں قانون کی بالادستی ہوگی جس کیلئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے قانون کی حکمرانی کیلئے کوشاں ہیں اس جہاد میں وکلا حصہ لے رہے ملک میں قانون کی بالادستی کیلئے جہاد ہورہاہے۔ انصاف لائرز فورم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مدعو کیا ہے، آئی ایل ایف کا کچھ عرصے سے اہم رول ہے یہ تھانہ کچہریوں کے چکر لگا رہے ہیں، پاکستان واحد ملک ہے جو جمہوریت کے عمل سے بنا ہے، قائد اعظم جمہوریت اور قانون پر یقین رکھتے تھے، جس ملک میں قانون پر عملدرآمد نہیں ہو وہاں میں جمہوریت کا کوئی فائدہ نہیں، پاکستان کے جمہوری عمل میں بہت سی رکاوٹیں آئیں ہیں، پاکستان میں چند افراد کے فیصلے نہیں چلنے چاہئیں، 2008 میں جمہوریت کا تسلسل شروع ہوا لیکن کئی رکاوٹیں ہیں، آج بھی دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان میں قانون طاقتور نہیں ہے، عوام پر قانون کا اطلاق ہورہا ہے لیکن طاقتور پر قانون نہیں چلتا، کیا پاکستان 22 کروڑ عوام اور اٹیمی طاقت رکھنے والا ملک قانون کے بغیر چلے گا، بلوچستان میں قانون پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے۔ وزرات اطلاعات سے جو مرضی خبریں چلا لیں کچھ نہیں ہوگا آج سوشل میڈیا کا دور ہے، عمران خان سے کہا تھا کہ بلوچستان کے عام آدمی سے پوچھیں وہ کیا سوچتا ہے، ہوسکتا ہے کیمرے کے سامنے کوئی نہ بولے کیونکہ بدقسمتی سے اس ملک میں آج بھی سچ بولنا آسان نہیں ہے یہ سمجھنا ہوگا کہ اب لوگوں کو ڈرا دھمکا کر کچھ کہنا آسان نہیں ہے، مجھ سمیت تمام فیصلہ سازوں کو سوچنا ہوگا کہ کس طرح آئین کی بالادستی یقینی بنانی ہے، قانون و آئین کی بالادستی کیلئے عدلیہ اور وکلاکا اہم کردار ہے، ہم نے دیکھا بلوچستان میں 8 اگست کو وکلانے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ اسلام آباد میں بھی دھماکے میں وکلانشانہ بنے تھے، یہ جانیں رائیگاں نہیں جائیں گی، قانون و آئین کی بالادستی ہوگی، ان کا کہنا تھ کہ پاکستان دیوالیہ ہورہاہے الیکشن کرانے کے لیے ڈالر کی ضرورت نہیں حکومت بیرون ملک کی شاہ خرچیاں چھوڑ دے اور جنرل الیکشن کا اعلان کیا جائے، صوبوں میں بھی الیکشن کروایا جائے۔ تقریب سے انصاف لائرز فورم کے صدر شمس رند اور سید اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسد عمر اور پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر قاسم خان سوری،سید ظہور آغا، منیر بلوچ اور دیگر کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں وقت دیا ہے آئی ایل ایف کے وکلاسپریم کورٹ کی ایگزیکٹو میں کامیاب ہوئے ہیں، جو تحریک اسلام آباد سے شروع ہوئی تھی اس کا سیکنڈ فیز ہم بلوچستان میں کرینگے، تقریب سے عمران خان ویڈیو لنک سے خطاب کرینگے، آج پاکستان میں رول آف لاپر عملدرآمد نہیں ہورہا، رول آف لاکو نیب قانون کے تحت سبوتاژ کیا گیا ہے، پاکستان میں قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد نہیں جہاد کی ضرورت ہے، جس ملک میں انصاف نہیں ہوگا وہ ملک تباہی کی طرف جائیگا، انصاف و قانون کی بالادستی کیلئے وکلاہمیشہ اپنا کردار ادا کر تے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں