بلوچستان اسمبلی اجلاس، تمام اراکین کا گیس پریشر بحال اور بجلی کی بندش پر اظہار خیال

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 40منٹ کی تاخیر سے قائمقام سپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس میں شہداء پولیس تھانہ لکی مروت کیلئے دعائے مغفرت کیلئے اجلاس میں صوبائی وزراء کی عدم موجودگی کے سبب قائم مقام سپیکر نے محکمہ داخلہ و قبائلی امور اور محکمہ پی ڈی ایم اے کے سوالات اگلے اجلاس کیلئے موخر کر دیئے،جس پر رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے، اختر حسین لانگو، نے کہا کہ جب صوبائی وزراء چھٹی پر ہیں تو انکے سوالات کیوں رکھے گئے ہیں، آئین کے مطابق وزراء پابند ہیں کہ وہ عوام کے سوالات کے جوابات دیں، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ وزراء کابینہ کوئی بھی عوام کے سوالات کے جواب نہیں دے رہے،پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی عزیز اللہ آغا نے کہا کہ شدید سردی میں نہ بجلی ہے نہ ہی گیس عوام کواس حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے ہم بار بار اسمبلی کے فلور پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملتا اگر یہی حال رہا تو اسمبلی اجلاس کا کیا فائدہ کہ ہم اپنے عوام کو گیس کی فراہمی بھی یقینی نہ بنائیں، انہوں نے کہا کہ پشین کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں گیس پریشر نہ ہونے کی وجہ سے عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں، خواتین کو امور خانہ داری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دو ماہ قبل بھی ہم نے گیس پریشر نہ ہونے کی شکایت کی تھی جس پر سوئی سدرن گیس کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جلد گیس پریشر بڑھا دیا جائیگا۔ جے یو آئی کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین نے کہا کہ پشین میں نہ گیس ہے اور نہ ہی بجلی جس کی وجہ سے عوام شدید سردی میں بہت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، کیسکو24گھنٹے میں صرف 4گھنٹے بجلی فراہم کر رہی ہے، جو بل دینے والے عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے حلقے زیارت میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے عوام بیمار ہو رہے ہیں، میں گزشتہ 4روز سے ایم ڈی ایس ایس جی سی سے ملاقات کیلئے ٹائم مانگ رہا ہوں لیکن وہ ٹائم نہیں دے رہے جس کی وجہ سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے جس پر قائم مقائم سپیکر سردار بابرموسیٰ خیل نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے بجلی و گیس کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے موجودہ سیشن کے بعد اسلام آؓباد جا کر وفاقی وزراء سے بات بھی کریں گے بلوچستان کے عوام کی تکلیف سے آگاہ کریں گے اگر ہوا تو ہم وہا ں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرینگے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے زمینداروں کو بیج کی فراہمی میں زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے وزیراعلیٰ اس کا نوٹس لیں۔ جے یو آئی کے رکن صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی نے کہا کہ ریکوڈک کیلئے ماشکیل سے پانی لیجانے کا پروگرام ہے، چاغی کی ترقی کیلئے ریکوڈک میں ضرور فنڈز مختص کئے جائیں اور ماشکیل کے عوام کو بھی یاد کیا جائے، اس کے حوالے سے جلد وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری سے ملاقات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ماشکیل نوکنڈ ی سڑک کا ٹھیکیدار تین ارب روپے لیکر دبئی میں بیٹھا ہوا ہے اور عوام کو اس حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس پر قائمقام سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ این ایچ اے کے متعلقہ آفیسر کو لیٹر لکھیں تاکہ وہ تفصیلی بریفنگ دیں، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے جب تقریر شروع کی تو ساؤنڈ سسٹم خراب ہونے کی وجہ سے کافی دیر ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، اصغر خان اچکزئی نے لکی مروت تھانے میں مسلح افراد کے ہاتھوں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی موت پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے ہی اس کی شناندہی کی تھی کہ مسلح افراد سے مذاکرات نہ کئے جائیں، حالات یہ ہوگئے ہیں کہ تھانے کے اندر مسلح افراد بائی ایئر افغانستان جانے کا راستہ مانگ رہے ہیں، اگر اس ناسور کو ختم نہ کی گیا تو مزید بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن جائیں گے۔ قائمقام اسپیکر نے رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے کو توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنے کو کہا۔ انہوں نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا لیکن دوسری مرتبہ صوبائی وزیر عبدالخالق ہزارہ کی عدم موجودگی پر اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ سیکرٹری سے اس بابت تفصیل منگوائیں۔ قائمقام اسپیکر نے صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کو پاک افغان بارڈر کے حوالے سے مذمتی قرار داد پیش کرنے کیلئے کہا لیکن وہ ایوان میں موجود نہیں رہے جس پر قائمقام سپیکر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 22دسمبر سہ پہر 3بجے تک ملتوی کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں