پاکستان میں ساڑھے 8ہزار ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں سے 6ہزار غیر قانونی میں،رپورٹ

کراچی(آن لائن) چیئرمین ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک محمد بوستان نے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی توجہ ایک بار پھر اس جانب مبذول کرائی ہے کہ پاکستان میں لوگوں نے اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کی غرض سے 10 ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر جمع کر رکھے ہیں۔ملک محمدبوستان نے یہ انکشاف بھی کیا کہ گزشتہ 27 سال کے دوران پاکستانی بینکوں سے 180 ارب ڈالر بیرون ملک بھیجے گئے، ایلیٹ کلاس کے 5 فیصد لوگوں نے یہ ڈالر پاکستان سے بیرون ملک منتقل کیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ڈالر کی ڈیمانڈ گھٹ کر 70 فیصد کی سطح پر آگئی ہے، افغان یومیہ 50 سے 70 لاکھ ڈالر خرید رہے ہیں، تاجروں اور صنعت کاروں کو ڈالر میں سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے۔ معیشت کی بحالی سیاست دانوں کے تدبر کا امتحان ہے، پاکستان کے دشمن اس کے نظریئے، فوج، سیاستدانوں اور افسران کو ٹارگٹ کررہے ہیں، یومیہ 15ہزار افغانوں کی افغانستان سے پاکستان آمدورفت ہورہی ہے۔ملک بوستان نے کہا کہ ایکس چینج کمپنیوں کے پاس ڈالر دستیاب ہی نہیں ہیں، ڈالر بحران میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیوں کا اہم کردار ہے۔ ایکس چینج کمپنیاں 100فیصد ورکرز ریمیٹنسز انٹربینک مارکیٹ میں سرینڈر کررہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں