بی این پی کا صوبائی سطح پر لاپتہ افراد کے حوالے سے کمیشن کے قیام پر حیرانگی کا اظہار
کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی کے جاری کردہ مرکزی بیان میں گزشتہ روز حکومت بلوچستان کی جانب سے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے صوبائی سطح پر عدالتی کمیشن کی قیام پر تعجب اور حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب پہلے ہی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور ملک کے مختلف جامعات میں زیر تعلیم بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے سے متعلق بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے اقابرین اور دیگر بھی شامل ہیں اور یہ کمیشن گزشتہ کہی مہنوں سے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سرگرم ء عمل اور مختلف عملی پروگراموں کا انعقاد کرچکے ہیں جس میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ تفصیلی ملاقات انکے مسائل اور اصل حقائق/ بلوچستان یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کو درپیش مسائل سے متعلق ایک روزہ مذاکرہ کی انعقاد /سمیت صوبائی حکومت کے زمہ داران، وکلا برادری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور دیگر سٹیک ہولڈر سے ملاقاتیں کرچکے ہیں تاکہ کمیشن تمام فریقین کی موقف اور بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل حقائق، واقعات پر مبنی جامعہ رپورٹ کو عملی شکل دیکر ،اسلام آباد ہائی کورٹ، حکومت ء وقت اور عوام کے سامنے پیش کرے اور اس سلسلے میں کمیشن کے معزز ممبران مختصر عرصے میں نہایت ہی باریک بینی سچائی مخلصی اور متحرک انداز میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سرگرم ء عمل ہیں لیکن دوسری طرف حکومت بلوچستان کے جانب سے نام نہاد عدالتی کمیشن کا قیام صرف اور صرف بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں اور انکے متحرک ٹیم کی کارکردگی، سچاہی پر مبنی اصولی موقف کو کاونٹر اور کمزور کرنے کے لئے عوام کی توجہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی کمیشن کی رپورٹ اور کارکردگی سے ہٹانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں بیان میں کہا گیا کہ یہ بات یہاں کے ہر زہی شعور انسان کے لیے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں آج بھی بلوچستان میں ناانصافیوں ظلم وجبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دور دورا ہے لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے کےبجائےجبری گمشدگیوں میں اضافہ ، سی ٹی ڈی کے آپریشن کے نام پر فیک کاونٹر، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے انسانی حقوق کی پامالیاں، ماورائے آئین و قانون کی خلاف ورزیاں ،اور چادر و چار دیواری کی تقدس کو پاوں تھلے روند ڈالنے کا نہ روکنے والا سلسلہ شدو مد کے ساتھ جاری ہے ایسے صوبائی حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیشن کا قیام جو خود ایسے واقعات میں ملوث ہو لوگوں کو گمراہ کرنے کی ایک گھناونی سوچے سمجھے سازش اور منصوبہ بندی کا حصہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور نہ یہ یہاں کے عوام کے خیر خواہ ہوسکتے ہے کیونکہ انہیں بلوچستانی عوام کی مفادات سے کوہی سروکار نہیں ہے انہیں صرف اور صرف اپنے اقتدار مراعات کرسیاں بچانے اور وفاداریاں تبدیل کرنا عزیز ہیں۔


