بلوچستان کے ہر محکمے میں لٹیروں اور مافیاز کا راج ہے، عوام کا اعتماد بحال کیا جائے، نواب ایاز جوگیزئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر سیکرٹری و اولسی قومی جرگہ کے کنوینر سابق صوبائی وزیر نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں لیکن حکومت میں نہ کوئی ٹیلنٹ اور نہ ہی کوئی صلاحیت سمیت کوئی سنجیدگی چیک اینڈ بیلنس ہے جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات حل ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لئے موثر منصوبہ بندی کرکے اقدامات اٹھا کر کوئٹہ کی بہتری کے لئے کام کئے جاسکتے ہیں، اور شہر کو وسعت دیتے ہوئے باہر پھیلانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کمفرٹ بلڈرز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر شرکا سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکرٹری سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈینیٹر حاجی اختر خان کاکڑ، علیم اقبال ہاشمی، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، عاصم ترین، امیر حمزہ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں انہیں سہولیات اور مواقع فراہم کئے جائیں اور پھر وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا کر اپنی ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لاسکتے ہیں، کوئی بھی آرگنائزیشن یا تنظیم ایک موثر ٹیم ورک اور اعتماد سمیت ہوم ورک کے بغیر بہتر کام نہیں کرسکتی، کوئٹہ جوکہ ہمارا صوبائی دارالحکومت ہے اس میں 80 ہزار سے لیکر ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے رہنے کی گنجائش ہونا چاہیے لیکن ہم نے اندرون بلوچستان اور دیگر علاقوں کو پسماندہ رکھ کر انہیں ترقی نہ دیکر اور ان علاقوں میں بسنے والوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے کوئٹہ سے 30 سے 35 لاکھ نفوس کو آباد کر رکھا ہے کسی بھی گھر میں خوشی یا غمی کے موقع پر آنے والے مہمانوں کے بعد گھروں کا نقشہ بدل جاتا ہے، شہر میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے شہر کا ہشر نشر ہوچکا ہے، شہر اوور لوڈنگ ہونے کی وجہ لوگوں کے مسائل حل نہیں ہورہے اور سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ اگر حکمران اور ریاست بلوچستان کے علاقوں ژوب، چمن، سبی، خاران، مکران اور دیگر اضلاع میں بسنے والے لوگوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات دیتے تو انہیں ضرورت نہ پڑتی کہ وہ کوئٹہ میں بھی اپنا دوسرا گھر بناتے کیونکہ اندرون بلوچستان جب نوجوان میٹرک کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے کوئٹہ اور دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں تو انہیں وہاں پر رہنے کیلئے گھر کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ بچوں کو سہولت دیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جو سہولیات بڑے شہر میں بسنے والوں میسر ہوگی وہی سہولیات ان کے رورل ایریا اور گاؤں، دیہات میں لوگوں کو میسر ہوگی اس لئے وہ بڑے شہروں کا رخ نہیں کرتے ہمیں اپنی پالیسیوں اور منصوبہ کا از سر نو جائزہ لیکر پسماندہ علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے کوشش کرنی ہوگی۔ آج کوئٹہ میں لوگوں کو رہنے کے لئے جدید عمارتیں، پلازے میسر ہیں لیکن ہماری سڑکوں کی حالت زار اور سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں اس کے تدارک کے لئے موثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمارے دور حکومت میں شہر میں بننے والے ڈرینج نالے صحیح منصوبہ بندی سے نہیں بنائے گئے اور ایسے کنٹریکٹر اور کنسلنٹ کو ہائر کیا گیا جنہیں کروڑوں روپے دیئے گئے لیکن انہوں نے مذکورہ نالوں کی تعمیر کا موقع پر جاکر کبھی بھی جائزہ نہیں لیا اور میں نے کابینہ کی میٹنگ وزیراعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان نالوں کی تعمیر کو روک کر یہ فنڈز لوگوں کو اپنے گھروں میں گڑھے کود کر سیوریج کا پانی اس میں ڈالنے کی تجویز دی تھی تاکہ زیر زمین پانی کی سطح ری چارج ہوسکے۔ نالوں کی تعمیر کے دوران کھدائی کے دوران واسا کی پائپ لائنیں اور دیگر محکموں کی لائنوں کو نقصان پہنچا جس کی وجہ سے سیوریج کا گندا پانی واسا کے پائپ لائنوں کے ذریعے گھروں میں جارہا ہے اور لوگ ہیپاٹائٹس کا شکار ہورہے ہیں لوگوں میں ٹیلنٹ ہے حکومت میں نہ ٹیلنٹ نہ سنجیدگی اور نہ ہی چیک اینڈ بیلنس کا کوئی میکنزم ہے جس کی وجہ سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ ہر محکمے میں لٹیرے اور مافیاز کا راج ہے کمیشن کی بھرمار سرکاری عمارتوں میں معیار کا فقدان ہے ان غلط چیزوں کی روک تھام کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، وزیر اعلی بلوچستان کے کوارڈینیٹر حاجی اختر خان کاکڑ، علیم اقبال ہاشمی، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ، عاصم ترین، امیر حمزہ نے کہا کہ مذکورہ رہائشی اور کاروباری مراکز منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا ہمیں حکومت کو کوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کے حوالے سے بہتر تجاویز دینا ہوگی اور صوبے کے تاجر مختلف مسائل سے دو چار ہیں حالانکہ تاجر برادری کسی بھی ملک اور معاشرے کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے حکومت کے علاوہ پرائیویٹ شعبے بھی لوگوں کو روزگار اور سہولیات کی فراہمی کے لئے کردار ادا کریں گے تو لوگوں کی مشکلات کم ہوں گی اس موقع پر مہمانوں نے مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں میں شیلڈ تقسیم کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں