ایران میں پھانسیوں اور ریاستی تشدد کی سخت مذمت، یورپی ممالک نے ایرانی سفیروں کو طلب کرلیا

برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی یونین نے ایرانی حکام سے مظاہرین کے خلاف سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے لیے اپنے مطالبات کی تجدید کی اور یورپی یونین نے ایرانی سفیروں کو طلب کر کے سزائے موت کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے دو افراد کو پھانسی دینے اور مزید سزائے موت سنائے جانے کے بعد مغربی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ پیرس میں جہاں ایران میں جبرو تشدد کے جواب میں ایرانی ناظم الامور کو طلب کیا گیا۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر کو طلب کرکے تہران میں سزائے موت سنائے جانے کیواقعات پر احتجاج کیا ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے ایرانی ناظم الامور سے کہا ہے کہ وہ ایران میں پھانسیوں اور موجودہ ریاستی تشدد کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایرانی حکام کے ساتھ مختلف چینلز کے ذریعے متعدد بار ایسا کیا ہے۔جرمن وزیر خارجہ اینالینا بربوک نے کہا کہ انہوں نے برلن میں ایرانی سفیر کو "دوبارہ” طلب کر کے مظاہروں کے سلسلے میں دو افراد کی حالیہ پھانسی پر احتجاج کیا ہے۔بربوک نے خبردار کیا کہ وہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں کہ ایرانی رجیم کی جانب سے شہریوں پرمظالم پر خاموشی نہیں برتی جائے گی۔ناروے کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے اوسلو میں تسلیم شدہ ایرانی سفیر کو طلب کر کے مظاہرین کو پھانسی دینے کی مذمت کی ہے۔درایں اثنا کینیڈا کی وزارت خارجہ نے دو ایرانی شہریوں اور احتجاج کو دبانے میں ملوث تین اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پابندیوں میں نائب وزیر کھیل اورامور نوجوان وحید یامن پور اور ملک کا سرکاری اخبارایران شامل ہیں۔بیان میں کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہم ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔وزیر نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف اپنی ظالمانہ مہم کو ہرصورت میں روکنا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں