بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کے ذمہ دار جاگیردار، سیاستدان، اساتذہ تنظیمیں اور این جی اوز ہیں، صفیہ بانو
کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ہیڈ مسٹریس صفیہ بانو نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کے ذمہ دار جاگیردار سیاستدان اساتذہ تنظیمیں اور این جی اوز ہیں مجھ پر مختلف الزامات لگائے گئے ڈیپارٹمنٹ کی لاچاری کو مدنظر رکھ کر اب عدالتوں سے رابطے پر مجبور ہوئی جو میرے لئے انتہائی تکلیف دہ عمل ہے فرض شناس ملازمہ کی حیثیت گیارہ سال قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ لے چکی ہے یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہاکہ سکول کوز میں عطیہ دینے والے عطیہ دہندہ گان سے بوقت سکول اجرا زمین لیتے وقت سرکار کا وعدہ کہ سکول میں نائب قاصد اور چوکیدار کی پوسٹیں عطیہ دہندگان کی فیملی ممبرز کو دی جائے گی مگر جاگیرداران اس وعدے کی آڑ میں فیملی کی تمام اساتذہ کو سکولز میں تعینات کرواتے ہیں یا تبادلہ کرواتے ہیں اور پھر جاگیر دار اور اس کے فیملی ملازمین سکول کی زمین کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں جہاں وہ اساتذہ کو اپنی غلام سمجھ کر اپنی من مانی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں اگر کوئی ملازم مخالفت کرے تو جاگیرداری اور سیاسی دھمکیوں سے چھپ کروایا جاتا ہے جاگیردار او رسیاستدان کا تعاون لازم و ملزم ہے سکولز اکثر سیاست اپروچ پر کھولے جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ اساتذہ تنظیموں سیاسی ورکرز اور وزرا کے دبا میں غلط فیصلیپوسٹوں کی خرید و فروختپرموشن کوٹہپروموشن اپ گریڈیشن سمیت ایشو کے ذمہ دار ہے انہوں نے کہاکہ یہ وہ تمام وجوہات ہیں جو مجھ صفیہ بانو نے اپنے28سالہ دورانیہ ملازمت میں اخذ کروائے اور ان کی روک تھام اور پست معیار تعلیم کی اصلاح کے لئے آواز اٹھا کر یا لکھ مخالفت کی تو بدلے میں 6سال کے دورانیے میں 10تبادلوں کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے کہاکہ سیاسی کارکنوں نے سکول سے نکلنے کیلئے پولیس تھانے میں شکایت لگانے سکولز کو تالے لگوانے نے اساتذہ اور طالبات کی ویڈیوز اپ لوڈ کروانے اور انہیں بدنام کرنے کے الزامات تک عائد کرنے میں اساتذہ کرام جاگیرداروں اور سیاست دانوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ کسی کی بہن بیٹی بیوی کے ساتھ ایسا برتا کرنے کے نتائج کتنے سنگین ہوسکتے ہیں ڈیپارٹمنٹ کی لاچاری کو مدنظر رکھ کر اب عدالتوں سے رابطے پر مجبور ہوئی جو میرے لئے ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے اس تکلیف سے دل برداشتہ ہو کر اس بار عدالت کے ذریعے حساب لینے کی کوشش کرونگی اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک فرض شناس ملازم کی حیثیت سے گیارہ سال قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ لے چکی ہوں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی تقدیر بدلنا چاہتے ہو تو فرض شناس اور محب وطن بلوچستانیوں کو متحد ہو کر اس سسٹم کی بہتری کیلئے کوشاں ہونا پڑے گا ورنہ ہر پڑھا لکھا بلوچستانی آنے والی نسلوں کا مجرم ہوگا۔


