پی ڈی ایم اے ملازمین کے تبادلے منسوخ کرکے انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں، ایپکا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ضلع کوئٹہ کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے کے رویے کیخلاف پی ڈی ایم اے کلاس فور ملازمین کو ٹرانسفر کرنے اور ملازمین کو گالم گلوچ کرنے اور زدوکوب کرنے کیخلاف میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی کی قیادت ایپکا بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی عبداللہ خان صافی اور ایپکا کوئٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری نے کی۔ ریلی میں ایپکا کوئٹہ کے ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکا نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے کیخلاف اور ملامین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کے نعرے درج تھے۔ ریلی کے شرکا مختلف شاہراہوں انسکمب روڈ، رمزے روڈ، جناح روڈ پر زبردست نعرہ بازی کرتے ہوئے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے پہنچ کر احتجاجی جلسے کے شکل اختیارکرلی۔ احتجاجی جلسے سے ایپکا بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی عبداللہ خان صافی، ضلعی صدر رحمت اللہ زہری، مرکزی سینئر نائب صدر ملک بور محمد بازئی، صوبائی جوائنٹ سیکرٹری حاجی ارشاد حسین، ضلعی جنرل سیکرٹری ارباب عبدالخالق کاسی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو بھی چھوٹے طبقے کے ملازمین کی عزت نفس مجروح کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آئین پاکستان شریعت اور قبائلی روایات میں ہر شخص کے حقوق کو یکساں تحفظ حاصل ہے، فرائض کی ادائیگی اور اختیارات ہر ایک کے علیحدہ ہے۔ آئین پاکستان کسی بڑے سے بڑے آفیسر کو یہ حق نہیں دیتا کہ چھوٹے سے چھوٹے ملازم کو گالم گلوچ کرکے زدوکوب کریں اگر پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے رویہ اور غیر آئینی اور غیر اخلاقی عمل کو رد نہیں کیا گیا تو بلوچستان کے سرکاری دفاتر میں انارکی کی صورتحال پیدا ہوگی اور پھر ہر طاقتور ملازم اپنے سے کمزور ملازم کی عزت نفس مجروح کرےگا اور پھر چھوٹے بڑے کا تمیز ختم ہوجائے گا پی ڈی ایم اے ایک رفاہی ادارہ ہے اور اس ادارے کا کام بھی یہی ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود اور کسی بھی مشکل حالات میں عوام کی خدمت کرنا ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پی ڈی ایم اے کے آفیسران اپنے اختیارات کے نشہ میں اور طاقت کے زور پی غریب ملازمین پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں جبکہ یہی غریب ملازمین جو کہ محکمہ کا نام روشن کرنے کے لیے اشدید سردی اور برف باری زلزلے اور سیلاب کے دوران اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام کی جان ومال کی حفاظت کے لیے دن رات کام کرتے ہیں بجائے ان کی حوصلہ افزائی کے ان کو گالی گلوچ دھونس دھمکی اور زاتی غنڈوں سے مارپیٹ کی جاتی ہے آگر کوئی بھی ملازم اپنے کسی بھی جائز حق کے لیے منہ کھولنے کی کوشش کرتاہے تواس کی آواز کو دبانے کے لیے دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کرنے اور نوکریوں سے نکال نے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے ایپکا ڈی جی پی ڈی ایم اے سے یہ پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ ایسا کیا وجہ تھی کہ ڈی جی کے ناک کے نیچے ایک غنڈہ صفت اور بدعنوان آفیسر نے غریب ملازمین کو اپنے ذاتی غنڈوں کے ذریعے مارا پیٹا اور گالی گلوچ کیا۔ ڈی جی کی خاموشی اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ سب ڈی جی کے ایما پر ہوا ہے کیا ہمیں نہیں معلوم کہ پی ڈی ایم اے میں اربوں روپے کے فنڈز کہاں اور کیسے خرچ ہوتے ہیں کیا پی ڈی ایم اے کی جانب سے تقسیم کرنے والے ٹینٹ وغیرہ بازار میں کھلے عام نہیں بیچے جارہے ہیں کیا نصیر آباد اور جعفرآباد میں آج بھی پی ڈی ایم اے کے امداد کے منتظر لوگ آسمان تلے زندگی نہیں گزار رہے ہیں کیا سیلاب متاثرین دی گئی امداد کا حساب دے سکتے ہیں کیا دیگر محکموں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے 17 گریڈ کے آفیسران کا بینک بیلنس کروڑوں میں نہیں ہے کیا ان افیسرو ں کے ٹھاٹھ باٹ اس بات کی نشاندھی نہیں کرتے کہ سیلاب سے متاثرہ غریب اور مجبور عوام کے نام پہ آنے والی اربوں روپے کا امدادی رقم اور سامان سیلاب متاثرین کو ملنے کی بجائے کہیں اور تقسیم ھورہاے کیا پی ڈی ایم اے کے 17 ،17 گریڈ کے آفیسران کا رہن سہن اس بات کا منہ بولتا ثبوت نہیں کہ غریب عوام کے نام پر آنے والی رقم کسی اور کی نزر ھوجاتی ھےانہون نے مزید کہاکہ پی ڈی ایم اے کے ملازمین کا نہ کوئی مستقبل نہ انکے سروسز کو تحفظ ہے 2021میں پی ڈی ایم اے کے امدادی سامان لیجانے والے پی ڈی ایم اے کے ڈراائیور غلام مصطفے ایک ایکسیڈنٹ میں شہید ہوگیا ایک سال گزرنے کے باوجود اسکے اہلخانہ کو ایک روپیہ نہیں ملا جو اپنے ملازم کے اہلخانہ کا مالی امداد نہیں کرسکتے وہ خاک دوسرے عوام کو امداد پہنچاسکتاہے انہوں نے مطالبہ کیاکہ پی ڈی ایم اے کے ملازمین کے تبادلے منسوخ کرکے انتقامی کارروائی بند کی جائے اور بد اخلاق اور ملازم دشمن ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کے رویے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ٹرانسفر کیا جائے غریب اور چھوٹے طبقہ کے ملازمین کسی کے باپ کے ذاتی نوکر یا غلام نہیں کہ جب جی چاہا ان کو بے عزت کیا جائے۔ایپکا وزیر اعلی بلوچستان،اور وزیر داخلہ سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ مذکورہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ورنہ پی ڈی ایم اے کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے ائیرپورٹ پر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور ایئرپورٹ روڈ کو بند کیا جائے گا جس کی تمام تر زمہ داری ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے اور دیگر اعلی حکام ھونگے جبکہ مورخہ 6فروری تا مورخہ 8 فروری تک ایپکاضلع کوئٹہ کے تمام یونٹوں میں مکمل قلم چھوڑ احتجاج کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں