پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے گوادر میں پانی بحران ختم ہوجائیگا ، ڈی جی جی ڈی اے
گوادر(بیورو رپورٹ) گوادر میں یومیہ 40 لاکھ گیلن پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے سیکرٹری پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ صالح بلوچ کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوئی جس میں ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے مجیب الرحمن قمبرانی، کمشنر مکران سید آغا فیصل، ڈپٹی کمشنر گوادر عزت نذیر، چیف انجینئر جی ڈی اے سید محمد ایس ای کیسکو مکران فاروق احمد جھکرانی، ایس ای پی ایچ ای یار محمد، ایکسیئن پی ایچ ای شکیل بلوچ، ایکسیئن کیسکو امیر علی بگٹی بلدیہ چیف ایاز گورگیج اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں گوادر کو فوری طور پر پانی کی بلا تعطل فراہمی، واٹر مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور روزانہ کے شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے مختلف تجاویز اور سفارشات پر روشنی ڈالی گئی اور اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ عوامی شکایات کی فوری ازالہ کرنے کیلئے واڈز اور محلوں کی سطح پر رابطہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جوکی محکمہ پبلک ہیلتھ، جی ڈی اے، کیسکو اور نومنتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل ہونگے۔ اجلاس میں کیسکو کو ہدایت کی گئی کہ واٹر سپلائی والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم رکھاجائے۔ سیکرٹری پی ایچ ای نے بتایا کہ کہ موجودہ حکومت گوادر کی ترقی اور یہاں کے لوگوں کو پانی فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کررہی ہے۔ شہر میں پانی کی نظام اور لائنز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو پانی جیسی بنیادی ضروریات زندگی کی قلت کا سامنا نہ ہو۔ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے مجیب الرحمن مبرانی نے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جی ڈی اے نے گوادر شہر کی مستقل بنیادوں پر پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کیے ہیں اور شہر کو بلاتعطل پانی سپلائی کرنے کیلئے شادی کور اور سوڈ ڈیم تک 158 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی ہے جس کے ذریعے روزانہ 25 لاکھ گیلن پانی فراہم کی جارہی ہے جبکہ اندرون شہر ازسر نو پائپ لائن بچھانے کا کام تیزی کے ساتھ جاری ہے جو کہ آخری مراحل میں ہے اور تین مختلف مقامات پر واٹر ٹینکس زیر تعمیر ہیں جنکی تکمیل کے بعد گوادر میں پانی کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہو جائے گا۔ کمشنر مکران سید فیصل آغا نے اجلاس میں شریک ماتحت افسران کو ہدایت دی کہ پانی سمیت تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس رکھیں تاکہ لوگوں و کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ ملے۔


