بلوچستان بار کونسل کا منگل کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان کے وکلاءتنظیموں پاکستان بار کونسل بلوچستان کونسل بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن و دیگر وکلاءتنظیموں نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے اس بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کی وجہ سے وکلاء کا لائسنس معطل ہونا چاہئے اس بیان کا وضاحت کرتے ہیں کہ جب ملک کے اندر عدلیہ بحالی تحریک اپنے زور و شور سے جاری تھی اور وکلاءنے ملک گیر ہڑتال کیا تھا اور اس ہڑتال میں موصوف سمیت تمام موجودہ جج پیش پیش تھے وکلاءنے ملک کے اندر آئین و قانون کی بالادستی کیلئے ہڑتال کی ہے ججز اپنی کمزوریوں کو وکلاءکو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں بیان میں کہا کہ اس وقت ملک بھر میں لاکھوں کیسزز پینڈنگ ہیں اور عام لوگ روزانہ عدالتوں کا چکر لگا کر آتے ہیں لیکن کیسز کا شنوائی نہیں ہوتا بیان میں کہا کہ موصوف کے خلاف جب صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تو وکلاءنے ملک گیر احتجاج کیا جب سینارٹی میرٹ کے برعکس تعیناتیوں کے خلاف وکلاءنے ملک گیر ہڑتال کیا بیان میں کہا کہ ججز کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ وہ وکلاءکے خلاف بے بنیاد الزام لگائے وکلاءآئندہ بھی آئین و قانون کی بالادستی جوڈیشری میں اقرباءپروری کرپشن کے خاتمے کے لئے اپنا جدوجہد جاری رکھیں گے بلوچستان بار کونسل نے آج 21 فروری بروز منگل کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں