سیلاب متاثرہ علاقوں میں خواتین کو شناختی کارڈ کے اجرا کا حصول آسان بنایا جائے، ربابہ بلیدی
کوئٹہ (آن لائن) سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کیلئے شناختی کارڈ کے اجراءکیلئے افتتاحی تقریب مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، تقریب سی پی ڈی ٹی ڈی ای اے یون این ڈی پی کے تعاون سے منعقد ہوئی ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں قیمتی سامان اور متاثرین کا شناختی کارڈ بھی بہہ گیا تھا شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب متاثرین کی امداد سمیت دیگر فوائد سے محروم ہیں، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بھی بہت سے متاثرین تاحال امداد سے محروم ہیںکیونکہ انکے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے، آج کی تقریب میں شرکت کر کے خوشی ہوئی ،یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں اس میں حکومت ، میڈیا ، سول سوسائٹی اپنا کردار ادا کرے، اور جن لوگوں کا شناختی کارڈ نہیں ہے طریقہ کار کو آسان بنا کر انہیں شناختی کارڈ مہیا کیا جائے کوشش کی جائے کہ اسے بڑے ہوٹلوں میں تقاریب منعقد کرنے کی بجائے ان متاثرین کی مدد کی جائے جو اس وقت امداد کے منتظر ہیں، ان کی دوبارہ آباد کاری کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے پانی ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ شناختی کارڈ جیسے بنیادی حق کی فراہمی برادری کی جانب سے ایک خوش آئند اقدام ہے ،ایسے پروگرام لانا چاہتے ہیں جس سے خواتین اور دوسرے افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے، ان کا کہنا تھا کہ صوبائی و وفاقی حکومت متاثرین کی بحالی کیلئے پالیسیاں بنا رہے ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہونگے ابتدائی طور پر نصیر آباد، جعفر آباد اور جھل مگسی کا انتخاب کیا گیا ہے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نادراآپریشن ڈائریکٹر سید ثباحت علی نے کہا کہ نادرا جھل مگسی ، نصیر آباداور جعفر آبادمیں خواتین کو شناختی کارڈ کے حصول کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے، نادرا کی موبائل ٹیمیں سیلاب متاثرہ علاقوں میں جا کر خواتین کو شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں،تقریب سے یو این ڈی پی کے سربراہ ذوالفقاد گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصہ سے یہ پروجیکٹ التوا ءکا شکار رہا تاہم اب ڈاکٹر فوزیہ شاہین اس پروجیکٹ کی سربراہ بنی ہیں، ان کے ساتھ ملکر اس پروجیکٹ کو کامیاب بنائیں گے ،سی پی ڈی کے سربراہ نصر اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کافی عرصہ سے خواتین کے شناختی کارڈ کے حوالے سے کام کر رہے تھے تاہم نادرا کے تعاون سے ہم خواتین کو شناختی کارڈجاری کرنے میں کامیاب ہونگے۔


